اقوام متحدہ میں جی سی سی کا ایران پر سخت مؤقف،فوری کارروائی کی اپیل
عالمی برادری کو بین الاقوامی قوانین، بحری راستوں کی آزادی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے
نیویارک: خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اور یمن میں حوثی گروپ سے متعلق بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور بحری سلامتی کو لاحق خطرات کے تناظر میں مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جی سی سی کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے کہا کہ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشات، اور اہم بحری گزرگاہوں سے متعلق خطرات عالمی امن اور بین الاقوامی تجارت کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو بین الاقوامی قوانین، بحری راستوں کی آزادی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
جی سی سی کے سیکریٹری جنرل نے الزام عائد کیا کہ ایران کی بعض سرگرمیاں، جن میں آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات، بحری بارودی سرنگوں کے استعمال کے الزامات اور اہم آبی گزرگاہوں سے متعلق بیانات شامل ہیں، عالمی جہاز رانی اور تجارت کے لیے خدشات پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ باب المندب اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں کا محفوظ رہنا عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ناگزیر ہے، اس لیے بین الاقوامی برادری کو کشیدگی میں کمی اور علاقائی امن کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
جی سی سی نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں ایسے اقدامات کریں جو خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے، بین الاقوامی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے اور عالمی امن و سلامتی کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں۔