80 سے زائدبرطانوی ارکان پارلیمنٹ کا اسرائیل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
حکومت اقوام متحدہ کے ایک آزاد کمیشن کی ان رپورٹوں کا جائزہ لے اور ان کے نتائج کو مدنظر رکھے
لندن: برطانیہ کے 80 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے غزہ کی صورتحال پر نئے برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف مؤثر اقدامات کریں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق واضح مؤقف اختیار کریں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ارکانِ پارلیمنٹ نے وزیراعظم کو ایک کھلا خط ارسال کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت اقوام متحدہ کے ایک آزاد کمیشن کی ان رپورٹوں کا جائزہ لے اور ان کے نتائج کو مدنظر رکھے، جن میں غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
خط میں وزیراعظم سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غزہ کی انسانی صورتحال پر فوری توجہ دیں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
ارکانِ پارلیمنٹ نے اپنے خط میں 2024 میں International Court of Justice کی جاری کردہ مشاورتی رائے کا بھی حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی قرار دیا گیا ہے اور اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے انخلا کرنا چاہیے۔
خط میں برطانوی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی عدالت کے مؤقف اور اقوام متحدہ کی سفارشات کو اپنی خارجہ پالیسی میں مدنظر رکھتے ہوئے مناسب سفارتی اقدامات کرے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ کی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش برقرار ہے اور متعدد ممالک، عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی پر زور دے رہی ہیں۔