ایران نے امریکی حملوں کو سلامتی کونسل میں چیلنج کر دیا
ان جہازوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا، جو بین الاقوامی انسانی قوانین اور سمندری قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے
ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ پر دو ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور جنگی جرم قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے نائب مستقل نمائندے غلام حسین درزی کی جانب سے سلامتی کونسل کو ارسال کیے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ناجی-15 اور ناجی-16 نامی جہازوں پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی میں شامل نہیں تھے۔
ایرانی حکام کے مطابق ان جہازوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا، جو بین الاقوامی انسانی قوانین اور سمندری قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس واقعے کا نوٹس لیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے ایران کے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ اس معاملے پر آزاد ذرائع سے بھی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران و امریکہ کے درمیان سفارتی اور عسکری تنازع مزید گہرا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔