بھارتی وزیرتعلیم کے استعفے میں طلبا سے ناانصافی کااعتراف۔متن سامنے آگیا
16 جولائی کے نتائج میں متعدد مستحق طلبہ کامیاب ہوئے تھے،دھرمیندرا پرادھان
بھارتی وزیر تعلیم کا استعفیٰ۔ سوشل میڈیا
وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھاگیا بھارتی وزیرتعلیم کا استعفیٰ نامہ سامنے آگیا جودھرمیندرا پرادھان کے ایکس اکائونٹ پر پوسٹ کیا گیاہے۔
بھارتی وزیرتعلیم نے استعفے میں لکھاہے کہ میں 4 دہائیوں سے زیادہ طلبہ، اساتذہ اور تعلیم کی اصلاح کے لیے وقف رہا ہوں۔ میرا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ ایک مضبوط، جامع اور دور اندیش تعلیمی نظام ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔میں ملک کے نوجوانوں کی امیدوں، جذبات اور ان کی جائز توقعات کا گہرا احترام کرتا ہوں۔ بھارت کی نوجوان نسل کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینا ہم سب کا اخلاقی عزم ہے۔وزیر اعظم کی دور اندیش قیادت میں قوم کی خدمت کا جو موقع مجھے ملا، اس کے لیے میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔لیکن 3 مئی 2026 کو NEET-UG کے امتحان میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں نے مجھے شدید تکلیف دی۔ بھارت سرکار نے فوری طور پر اس کی جانچ سی بی آئی کو سونپی اور امتحان منسوخ کر کے دوبارہ تاریخ کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی اگلے سال سے اس امتحان کو CBT (کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ) موڈ میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں:کاکروچ تحریک نے پہلا مطالبہ منوالیا۔بھارتی وزیرتعلیم نے استعفیٰ دے دیا
پرادھان کا مزید کہناتھاکہ اس دوران ہماری اہم ترجیح یہ رہی کہ 20 لاکھ سے زیادہ طلبہ کا امتحان شفاف طریقے سے منعقد کیا جائے۔ اس کے لیے حکومت کے تمام اداروں، ریاستی حکومتوں، خاص طور پر ضلعی انتظامیہ نے اہم کردار ادا کیا۔ طلبہ، والدین اور اساتذہ کے تعاون سے 21 جون 2026 کو یہ امتحان مکمل ہوا۔
— Dharmendra Pradhan (@dpradhanbjp) July 25, 2026
پہلے دن سے ہی میں نے اس معاملے کی ذمہ داری لی اور کبھی منہ نہیں موڑا۔ میرا عزم تھا کہ ہم کسی بھی میرٹ والے طالب علم کی امیدوں کو امتحانی مافیا کی وجہ سے خراب نہیں ہونے دیں گے اور کسی طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے۔16 جولائی کو NEET-UG کے نتائج تسلی بخش رہے، جن میں غریب اور دیہی علاقوں سے آنے والے کئی میرٹ والے طلبہ کو کامیابی ملی۔تاہم اس دوران بھی کچھ طلبہ کو گمراہ کرنے کے لیے ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے افراد نے رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی، جس سے میرا دل بہت دکھی ہوا۔
بھارتی وزیرتعلیم نے لکھا ہے کہ میں ہمیشہ ہمارے جمہوریت کی طاقت پر اٹل اعتماد رکھنے والا رہا ہوں اور نوجوانوں کی امیدوں، خوابوں اور توقعات کا گہرا احترام کرتا آیا ہوں۔ وہ صرف بھارت کا مستقبل ہی نہیں بلکہ ایک نئے اور ترقی یافتہ بھارت کے معمار، خالق اور مستقبل کے فنکار بھی ہیں۔پچھلے 10 دنوں کے واقعات دیکھ کر میرا دل دکھی ہے۔ یہ میرے لیے ذاتی تکلیف کا معاملہ نہیں ۔بھارت کی نوجوان طاقت ہی اس ملک کی حقیقی طاقت ہے۔ملک کی نوجوان طاقت کو بھرم کے جال میں نہیں پھنسنے دوں گا، یہی میرا عزم ہے۔
دھرمیندر پرادھان کا کہناہے کہ جنتر منتر پر اور ملک بھر میں جو صورتحال بنی ہے، اس کا قومی مخالف طاقتوں کو فائدہ نہ اٹھانے دیں، قومی یکجہتی برقرار رہے، بھارت کے کسی بھی طالب علم کا مستقبل قانونی پیچیدگیوں میں نہ الجھے، ہمارے بچے اپنا وقت پڑھائی میں لگائیں، کیریئر بنانے پر توجہ دیں ، اسی سوچ کے ساتھ میں نے اپنا استعفیٰ نامہ وزیر اعظم کو بھیج دیا ہے۔