مطالبات منظور ہونے کے بعد بھارتی نوجوانوں کا احتجاج ختم
سی جے پی نے احتجاج کے دوران تین مطالبات پیش کیے تھے
تصویر: سوشل میڈیا
کاکروچ جنتا پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے ان کے مطالبات مان لیے ہیں جس کے بعد احتجاج ختم کیا جا رہا ہے۔ترجمان کے مطابق حکومت کی جانب سے مطالبات منظور کیے جانے کے بعد تنظیم نے اپنا احتجاج باضابطہ طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب پارلیمنٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو تعلیمی نظام کی اصلاح کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔راہول نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ان تمام نوجوانوں اور طلبہ کو دلی مبارک باد جنھوں نے جمہوریت، آئین اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکل کر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
قبل ازیں بھارت کے تعلیم وزیر دھرمیندر پرادھان نے امتحانی پرچے لیک ہونے کے سلسلے پر نوجوانوں کے کئی ہفتوں کے احتجاج کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔
پرادھان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیج دیا ہے۔
واضح رہے کہ کاکروچ جنتاپارٹی کی احتجاجی تحریک نے تین مطالبات پیش کیے ہیں۔ ان میں وزیرتعلیم کا استعفیٰ پہلے نمبر پرتھا۔
میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے دھرمیندر پرادھان نے تصدیق کی کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم نریندر مودی کو ارسال کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، وزیراعظم نریندر مودی نے ملک میں بڑھتے ہوئے عوامی غم و غصے اور سیاسی دباؤ کے پیش نظر وزیر تعلیم کا استعفیٰ فوری طور پر منظور کر لیا ہے۔
نوجوانوں اور طلبا کی جانب سے شروع کی گئی احتجاجی تحریک نے بھارتی حکومت کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ مظاہرین کا موقف تھا کہ بار بار امتحانی پیپرز لیک ہونے سے لاکھوں ہونہار طلبا کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے اور موجودہ قیادت اس بحران کو حل کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، وزیر تعلیم کا استعفیٰ احتجاجی نوجوانوں کی بڑی کامیابی ہے، تاہم طلبا تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ صرف استعفے پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ پورے امتحانی نظام کی اوور ہالنگ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ جاری رکھیں گے۔
بھارت میں گزشتہ چند ہفتوں سے مختلف بڑے قومی امتحانات کے پرچے (Examination Papers) قبل از وقت لیک ہونے کے خلاف نوجوانوں اور طلبا تنظیموں کی جانب سے ملک گیر احتجاجی لہر جاری تھی۔ اس احتجاج کو خصوصی طور پر “کاکروچ” احتجاج کا نام دیا گیا، جس میں نوجوانوں نے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر امتحانی نظام میں شفافیت کی کمی اور بدعنوانی کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔
اس تحریک (جسے کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج بھی کہا جا رہا ہے) نے حکومت پر شدید سیاسی اور عوامی دباؤ بڑھا دیا تھا، اور براہِ راست وزیر تعلیم دھرمیندر پرادھان کی برطرفی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔