پیٹرولیم قیمتوں کے نظام پر نظرثانی کا مطالبہ،بزنس فورم کاوزیراعظم کو خط
مشکل حالات میں حکومت کاکام عوام کوریلیف فراہم کرناہوتا ہے،نہ کہ تمام بوجھ عوام پرمنتقل کرنا
اس فارمولے کے باعث روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بھی من مانی طور پر وصول کی جارہی ہیں، مشکل حالات میں حکومت کا کام ریلیف فراہم کرنا ہوتا ہے نہ کہ تمام بوجھ عوام پر منتقل کرنا: پاکستان بزنس فورم— فوٹو:فائل
پاکستان بزنس فورم نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کر دیا۔
پاکستان بزنس فورم کے خط کے مطابق حکومت روزانہ پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے فارمولے پر نظرثانی کرے، کیونکہ اس نظام نے کاروباری برادری اور عوام کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ اس فارمولے کے باعث روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بھی من مانی طور پر وصول کی جا رہی ہیں۔
پاکستان بزنس فورم کا کہنا ہے کہ گزشتہ 5 روز کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 24 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 60 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔
خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مشکل حالات میں حکومت کا کام عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہوتا ہے، نہ کہ تمام بوجھ عوام پر منتقل کرنا۔
پاکستان بزنس فورم نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی کو 18 فیصد جی ایس ٹی کے مساوی فی لیٹر مقرر کیا جائے۔
خط میں مزید کہا گیا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کی سخت مخالفت کرتے ہیں، جبکہ تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں کے فی لیٹر مارجن میں کمی کی جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 66 پیسے اضافہ کیا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔
اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں بھی 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر ہے۔