امریکا میں ایران سے کشیدگی پر تشویش،اسلحہ ذخائر سے متعلق خدشات سامنے آگئے

اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف جاری عسکری مہم میں ممکنہ توسیع کے اثرات پر بریفنگ دی۔

July 26, 2026 · بام دنیا

امریکا میں ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اعلیٰ عسکری قیادت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ممکنہ فوجی کارروائیوں اور اسلحہ کے ذخائر سے متعلق خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف جاری عسکری مہم میں ممکنہ توسیع کے اثرات پر بریفنگ دی۔

رپورٹس کے مطابق اجلاس میں امریکی اسلحہ کے ذخائر، ممکنہ فوجی کارروائیوں اور ان کے نتائج پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل ڈین کین نے اسلحہ کے ذخائر میں کمی کے خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے ممکنہ خطرات کی نشاندہی بھی کی، تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ امریکی فوج تمام دستیاب عسکری آپشنز پر عمل درآمد کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ادھر تقریباً دو ہفتوں تک مسلسل رات کے وقت فضائی حملوں کے بعد امریکا نے ایران پر بمباری میں بظاہر عارضی وقفہ کیا ہے۔ امریکی محکمۂ دفاع سے وابستہ ذرائع کے مطابق فوجی کارروائیاں فی الحال عارضی طور پر روک دی گئی ہیں، تاہم اس وقفے کی حتمی وجہ کے بارے میں کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی۔

اجلاس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن اگر ضرورت پڑی تو امریکا اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے یا ان میں شدت لانے کا اختیار محفوظ رکھتا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر اسٹیون چیونگ نے کہا کہ امریکی انتظامیہ سفارتی حل کو ترجیح دیتی ہے، تاہم ایران کی جانب سے خطے میں کشیدگی بڑھانے والی سرگرمیاں جاری رہیں تو تمام ممکنہ آپشنز بدستور زیر غور رہیں گے۔

رپورٹس کے مطابق خلیج فارس کے بعض ممالک نے بھی امریکا سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ واشنگٹن آئندہ حکمت عملی پر غور کر رہا ہے۔