قومی مفاد پہلے،ضرورت پڑی تو ٹرمپ پر تنقید کریں گے:برطانوی وزیراعظم
عالمی حالات مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں اور ہر صورتحال کا جائزہ وقت کے مطابق لینا ضروری ہوتا ہے
برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ اگر قومی مفاد کا تقاضا ہوا تو وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اینڈی برنہم نے بتایا کہ وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد امریکی صدر سے ان کی پہلی گفتگو خوشگوار رہی اور انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک گرمجوش شخصیت قرار دیا۔
تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ٹرمپ پر مکمل اعتماد کرتے ہیں تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے کے بجائے کہا کہ عالمی حالات مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں اور ہر صورتحال کا جائزہ وقت کے مطابق لینا ضروری ہوتا ہے۔
برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی معاملے پر برطانیہ کے مفاد کے خلاف مؤقف اختیار نہیں کریں گے اور اگر ضرورت پڑی تو امریکی صدر سے اختلاف رائے کا اظہار بھی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ذمہ داری برطانیہ کے قومی مفادات کا تحفظ ہے، اس لیے اگر کسی معاملے پر تنقید کرنا ضروری ہوا تو وہ اس سے گریز نہیں کریں گے۔
اینڈی برنہم نے ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر معاملے پر وہی مؤقف اختیار کریں گے جسے وہ درست سمجھتے ہیں، خواہ اس کے لیے اپنے قریبی اتحادیوں سے اختلاف ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔