ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ماحولیاتی فیس عائد کرنے کی تیاری کر لی

مقصد خلیج فارس میں بحری جہازوں کی آمدورفت سے پیدا ہونے والی آلودگی کے اثرات کو کم کرنا اور ماحولیاتی نقصانات کے ازالے کے لیے مالی وسائل فراہم کرنا ہے۔

July 26, 2026 · بام دنیا

تہران: ایران کے ادارہ برائے تحفظِ ماحولیات نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز سے ماحولیاتی خدمات اور آلودگی کے نقصانات کی مد میں فیس وصول کرنے کے لیے نئے قواعد تیار کر لیے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق مجوزہ ضوابط منظوری کے لیے حکومت کو ارسال کر دیے گئے ہیں۔ ان قواعد کا مقصد خلیج فارس میں بحری جہازوں کی آمدورفت سے پیدا ہونے والی آلودگی کے اثرات کو کم کرنا اور ماحولیاتی نقصانات کے ازالے کے لیے مالی وسائل فراہم کرنا ہے۔

ادارۂ تحفظِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے ہر سال 50 ہزار سے زائد بحری جہاز اور آئل ٹینکر گزرتے ہیں، جس کے باعث سمندری ماحول اور خلیج فارس کے ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حکام کے مطابق ان نقصانات کے تدارک کے لیے متعلقہ جہازوں سے فیس وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مجوزہ منصوبے کے تحت بحری جہازوں سے وصول کی جانے والی فیس کا تعین ان کی نوعیت، لے جانے والے سامان کی مقدار، بحری ریکارڈ اور ماضی میں آلودگی پھیلانے کے واقعات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ضوابط سمندری قوانین سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اس تجویز پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بین الاقوامی بحری راستوں سے گزرنے والے جہازوں پر فیس یا محصول عائد کرنا آزادانہ جہاز رانی کے اصول سے مطابقت نہیں رکھتا۔

تاہم ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی پانی نہیں بلکہ ایران اور عمان کی علاقائی سمندری حدود کا حصہ ہے، اس لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے ماحولیاتی خدمات اور نقصانات کی مد میں فیس وصول کرنا قانونی طور پر جائز ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس منصوبے کی حتمی منظوری دے دی جاتی ہے تو اس کے عالمی بحری تجارت، تیل کی ترسیل اور خطے کی جغرافیائی سیاست پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔