ٹرمپ انتظامیہ کا ایران سے متعلق سخت مؤقف برقرار

صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایران کے معاملے پر مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل چاہتے ہیں

July 26, 2026 · بام دنیا

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی میں تمام ممکنہ آپشنز بدستور موجود ہیں، تاہم امریکا اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر برائے مواصلات اسٹیون چونگ نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایران کے معاملے پر مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل چاہتے ہیں، لیکن اگر ایران آبنائے ہرمز یا خطے میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جارحانہ سرگرمیاں جاری رکھتا ہے تو امریکا اپنے تمام آپشنز کھلے رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں اور حالیہ فوجی کارروائیوں کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا تھا تاکہ وہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سفارتی راستہ اختیار نہیں کرتا تو امریکا آئندہ کے اقدامات کے لیے بھی تیار ہے۔

اسٹیون چونگ کے مطابق امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کا بہترین طریقہ بات چیت اور کسی قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنا ہے، تاہم ایران کی جانب سے ممکنہ اشتعال انگیز اقدامات کی صورت میں تمام متبادل آپشنز زیر غور رہیں گے۔

ادھر امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ دفاعی حکام کی بریفنگ کے بعد کیا گیا، جس میں پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور امریکی اتحادیوں کے خدشات پر غور کیا گیا۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے حملے رکنے کے بعد ایران نے اپنی جوابی فوجی کارروائیاں معطل کر دی ہیں، تاہم خطے کی صورتحال پر دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ فوری طور پر کشیدگی میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں اور آئندہ پیش رفت کا انحصار سفارتی رابطوں اور زمینی صورتحال پر ہوگا۔