کوٹ ادو میں ایف آئی اے کا بی آئی ایس پی دفتر پر چھاپہ، 6 ریٹیلرز گرفتار

گرفتار افراد مبینہ طور پر بی آئی ایس پی دفتر کے اندر ہی مستحق خواتین سے سم کارڈز کی فراہمی کے عوض غیر قانونی رقم وصول کر رہے تھے۔

July 27, 2026 · جرم وسزا

ایف آئی اے کے مطابق ملزمان مستحق خواتین سے سم کارڈز کے اجرا کے نام پر 1500 روپے فی خاتون غیر قانونی طور پر وصول کر رہے تھے، تفتیش کے دوران بی آئی ایس پی اور نادرا ملازمین کے ممکنہ سہولت کار کردار کا بھی تعین کیا جائے گا۔

کوٹ ادو میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے دفتر پر کارروائی کرتے ہوئے 6 ریٹیلرز کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق گرفتار افراد مبینہ طور پر بی آئی ایس پی دفتر کے اندر ہی مستحق خواتین سے سم کارڈز کی فراہمی کے عوض غیر قانونی رقم وصول کر رہے تھے۔

ایف آئی اے کی درج کردہ ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ نمبر FIR-CC-DG(ACC)-13/26 کمپوزٹ سرکل ڈیرہ غازی خان میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 25 جولائی 2026 کو کوٹ ادو میں پیش آیا جبکہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 420 اور 109 کے تحت درج کیا گیا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ایف آئی اے کو اطلاع ملی کہ جاز اور ٹیلی نار کے ریٹیلرز بی آئی ایس پی دفتر کوٹ ادو میں بے نظیر کفالت پروگرام کے تحت مستحق خواتین کو سم کارڈ فراہم کر رہے ہیں، تاہم ان سم کارڈز کے بدلے ہر خاتون سے 1500 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔

ایف آئی اے کے مطابق بی آئی ایس پی کے طریقہ کار کے تحت یہ سم کارڈز مستحقین میں مفت تقسیم کیے جانے تھے، لیکن مبینہ طور پر ریٹیلرز خواتین سے رقم کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اطلاع ملنے کے بعد ایف آئی اے کی چھاپہ مار ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے بی آئی ایس پی دفتر کوٹ ادو پہنچ کر کارروائی کی۔ ایف آئی آر کے مطابق موقع پر موجود خواتین نے بتایا کہ وہ بی آئی ایس پی کی رقم وصول کرنے کے لیے سم کارڈ حاصل کرنے آئی تھیں اور ریٹیلرز کی جانب سے ان سے 1500 روپے طلب کیے جا رہے تھے۔

ایف آئی اے کے مطابق کارروائی کے دوران زبیر اسلم، محمد اشفاق، محمد الطاف، حاجی مزمل، شاہد بلال اور مہتاب احمد نامی 6 ریٹیلرز کو گرفتار کیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے سم کارڈز، بائیومیٹرک ڈیوائسز، بی آئی ایس پی مستحقین کے شناختی کارڈز کی معلومات اور موبائل فونز برآمد کیے گئے، جنہیں تفتیش کے لیے قبضے میں لے لیا گیا۔

ایف آئی اے نے موقع پر موجود متاثرہ خواتین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔ مقدمے کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں گرفتار ملزمان کے خلاف دھوکہ دہی اور معاونت کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ دوران تفتیش بی آئی ایس پی اور نادرا دفاتر میں موجود ممکنہ سہولت کار ملازمین کے کردار کا بھی تعین کیا جائے گا۔ اگر کسی ملازم کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

ایف آئی اے کے مطابق کیس کی تفتیش سب انسپکٹر گلزار احمد کر رہے ہیں جبکہ مزید شواہد، بیانات اور ریکارڈ کی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھائی جائیں گی۔