چین کی فوجی مشقوں میں ہتھیار سے لیس روبوٹ کتوں کی انٹری
یہ روبوٹ عمارتوں، تنگ راستوں اور مشکل مقامات پر جا کر معلومات جمع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
چین اور کمبوڈیا کی مشترکہ فوجی مشقوں “گولڈن ڈریگن” کے دوران جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کیا گیا، جس میں ہتھیار سے لیس چار ٹانگوں والے روبوٹ کتے نے عالمی توجہ حاصل کی۔
رپورٹس کے مطابق مشقوں میں شامل روبوٹ کتے کی پشت پر خودکار رائفل نصب تھی، جسے شہری علاقوں میں جنگی صورتحال کے دوران نگرانی، دشمن کی نشاندہی اور فوجی آپریشنز میں معاونت کے لیے پیش کیا گیا۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے روبوٹ خطرناک علاقوں میں بھیجے جا سکتے ہیں تاکہ انسانی فوجیوں کو ممکنہ خطرات سے بچایا جا سکے۔ یہ روبوٹ عمارتوں، تنگ راستوں اور مشکل مقامات پر جا کر معلومات جمع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
✨🇨🇳China has deployed walking combat robots in its military drills. pic.twitter.com/1QT2EKFO17
— 🇨🇳XuZhenqing徐祯卿 (@XueJia24682) July 27, 2026
دفاعی ماہرین کے مطابق روبوٹک جنگی نظام مستقبل کی فوجی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم ان کی عملی افادیت، درستگی، کنٹرول اور استعمال سے متعلق اخلاقی و قانونی معاملات پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور خودکار نظاموں کی ترقی کے ساتھ مستقبل کی جنگوں میں روبوٹ، ڈرونز اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال مزید بڑھ سکتا ہے۔