ایران میں حکومت مخالف احتجاج کیس، دو افراد کو سرعام پھانسی دے دی گئی
دونوں افراد کو جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں پر حملے کے مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔
تہران: ایران کی عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ حکومت مخالف احتجاج سے متعلق مقدمے میں سزائے موت پانے والے دو افراد کو پھانسی دے دی گئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں افراد کو صوبہ اصفہان کے شہر ملک شہر میں ایک عوامی مقام پر سزا دی گئی۔ عدلیہ کی سرکاری ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق پھانسی پانے والوں کی شناخت ابوالفضل سپاہی اور امیر حسین صفری کے نام سے کی گئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق دونوں افراد کو جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں پر حملے کے مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ عدالتی بیان میں کہا گیا کہ ان پر پولیس اہلکاروں پر تشدد اور سنگین جرائم کے الزامات ثابت ہوئے۔
عدلیہ کے مطابق دونوں افراد پر محاربہ اور فساد فی الارض سمیت دیگر الزامات عائد کیے گئے تھے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ ان کے اقدامات سے امن و امان اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچا۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق سزا شہر کے ایک عوامی چوک میں لوگوں کی موجودگی میں نافذ کی گئی۔
دوسری جانب اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بین الاقوامی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ایران میں سزائے موت اور عوامی مقامات پر سزاؤں کے نفاذ پر ماضی میں انسانی حقوق کی تنظیمیں تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔