فرانسیسی نمائندے کی تقریر کے دوران امریکی وفد سلامتی کونسل کا اجلاس چھوڑ کر چلا گیا

فرانس نے انسانی حقوق کے معاملات پر واشنگٹن کے ووٹنگ کے انداز کا موازنہ آمرانہ حکومتوں کے طرزِ عمل سے کیا تھا۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

نیو یارک: امریکی وفد پیر کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس اس وقت چھوڑ کر چلا گیا جب فرانس نے انسانی حقوق کے معاملات پر واشنگٹن کے ووٹنگ کے انداز کا موازنہ آمرانہ حکومتوں کے طرزِ عمل سے کیا۔

یہ سفارتی تنازع گزشتہ ہفتے اس وقت شروع ہوا تھا جب امریکہ نے شمالی کوریا اور روس کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

جمعے کے روز ہونے والی ووٹنگ کے بعد اقوام متحدہ میں فرانس کے مشن نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے اس کے مؤقف کا موازنہ شمالی کوریا اور روس سے کیا۔ فرانسیسی مشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’امریکہ کبھی انسانی حقوق کے لیے مشعلِ راہ تھا، لیکن اب ایسا نہیں رہا۔‘

اس کے ردعمل میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے فرانس پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایسے کمشنر کی قیادت کے حق میں ووٹ دیا ہے جو، ان کے بقول، جمہوری ممالک کو ’نصیحت‘ کرتا ہے جبکہ ’دنیا کی سب سے جابرانہ حکومتوں کے ساتھ قربت رکھتا ہے‘۔ تاہم انھوں نے اپنے اس مؤقف کی مزید وضاحت نہیں کی۔

وولکر ترک روس کی یوکرین کے خلاف جنگ اور غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر تنقید کر چکے ہیں۔

امریکی وفد کا اجلاس سے واک آؤٹ فرانس کے سفیر ژیروم بونافون کی تقریر کے دوران ہوا۔ وہ سلامتی کونسل کے اس ہنگامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جس میں یوکرین کے خلاف روس کی جنگ پر بات چیت ہو رہی تھی۔