ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق عمان کی تجویز مسترد کر دی
ایران نے گزشتہ 15 روز کے دوران امریکا سے مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی اور تہران اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو دوبارہ سابقہ صورتحال پر بحال کر دیا گیا تو ایران اپنی کامیابی کو مکمل نہیں سمجھے گا۔
سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ ایران نے گزشتہ 15 روز کے دوران امریکا سے مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی اور تہران اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بعض ممالک نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے متبادل جنوبی راستہ تجویز کیا ہے، تاہم ایران کے مطابق یہ تجویز دونوں ممالک کے درمیان موجود مفاہمتی معاہدوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق عمان نے یہ تجویز دی تھی کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے کو ایران اور عمان کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کر دیا جائے، تاکہ جہاز ایک ملک کے پانیوں سے داخل ہو کر دوسرے ملک کے پانیوں سے گزریں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کے علاقائی پانیوں میں واقع بحری گزرگاہ کا انتظام صرف ایران کے پاس ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ تہران نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ عمانی حدود میں واقع بحری راستے کے ایک حصے کا انتظامی کنٹرول بھی ایران کے سپرد کیا جائے۔
کاظم غریب آبادی نے مزید کہا کہ اگر ایران کی تجویز کو قبول نہ کیا گیا تو آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہ سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی توانائی کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی پیش رفت کو بین الاقوامی سطح پر غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔