ٹرمپ کے ساتھ ملاقات بہترین رہی، نیتن یاہو کا دعویٰ
دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ان کی حالیہ ملاقات انتہائی مثبت اور اہم رہی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور اس دوران مختلف اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر گفتگو کی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ملاقات کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے متعدد اہم موضوعات پر بات چیت کی، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
بنیامین نیتن یاہو نے بعد ازاں اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ اجلاس میں صدر ٹرمپ کی سینئر ٹیم بھی شریک تھی اور دونوں ممالک کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور مشترکہ مقاصد پر اتفاق پایا گیا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے مطابق بات چیت میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دیے جائیں، جبکہ خطے میں سیکیورٹی اور دیگر اہم معاملات پر بھی مشترکہ حکمت عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق اجلاس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی موجود تھے۔ بعد ازاں نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ اور دیگر امریکی شخصیات کے ساتھ ایک تقریب میں شرکت کی، جہاں ان کی یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی ملاقات اور مختصر گفتگو ہوئی۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران سے متعلق کشیدگی اور دونوں ممالک کی داخلی سیاسی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔