دوسری جنگ بندی کے بعد ایران کا امریکی اڈوں پر پہلا میزائل حملہ

ایران کے منجمد اثاثوں سے متعلق اقدامات کرنے والے ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

July 29, 2026 · بام دنیا

دوسری جنگ بندی کے بعد پہلی بار ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران نے امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اردن میں واقع امریکی فوج کے فضائی اڈے اور امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) کے ایک مرکز پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ ایرانی حکام نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں سے متعلق اقدامات کرنے والے ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے تمام میزائل فضائی دفاعی نظام کے ذریعے راستے ہی میں تباہ کر دیے گئے اور کسی امریکی فوجی تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا۔ امریکی حکام کے مطابق خطے میں تعینات تمام امریکی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

ادھر آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انتباہ کے باوجود گزرنے والے تین آئل ٹینکروں کو روک لیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب امریکی سینٹکام کے مطابق 28 جولائی تک سیکیورٹی خدشات کے باعث 18 تجارتی بحری جہازوں نے اپنا راستہ تبدیل کیا، جبکہ دو بحری جہازوں کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے 20 سے زائد جنگی جہاز مختلف فوجی اور سیکیورٹی مشنز پر تعینات ہیں۔

تازہ پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔