پشاور کی سیاحت پر آئے اطالوی نوجوان نے اسلام قبول کر لیا

محمد خلیل کا تعلق اٹلی کے شہر باری سے ہے جبکہ وہ ان دنوں ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

July 29, 2026 · قومی

پشاور: اٹلی سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ نوجوان ایمانوئیل نے پاکستان کے شہر پشاور کے سفر کے بعد اسلام قبول کر لیا ہے اور اپنا نیا نام محمد خلیل رکھ لیا ہے۔ ان کے مطابق پشاور کا مختصر دورہ ان کی زندگی کا ایسا تجربہ ثابت ہوا جس نے انہیں اسلام کو سمجھنے اور ایک نئے روحانی سفر کا آغاز کرنے پر آمادہ کیا۔

محمد خلیل کا تعلق اٹلی کے شہر باری سے ہے جبکہ وہ ان دنوں ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان آنے کا فیصلہ اچانک ہوا، جب وہ کم قیمت سفری ٹکٹ تلاش کر رہے تھے تو انہیں پاکستان کا ٹکٹ ملا اور انہوں نے یہاں آنے کا فیصلہ کر لیا۔

پاکستان آنے سے قبل محمد خلیل نے ملک کی تاریخ، ثقافت اور مختلف علاقوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے خاص طور پر خیبر پختونخوا اور پشاور کے بارے میں جاننے میں دلچسپی ظاہر کی کیونکہ وہ دنیا بھر میں پشاور کی مہمان نوازی کے حوالے سے مشہور روایات کے بارے میں سن چکے تھے۔

نومبر 2025 میں محمد خلیل اپنے ایک دوست کے ہمراہ پشاور پہنچے، جہاں انہوں نے مقامی ٹورسٹ گائیڈ شاہد علی خان سے رابطہ کیا۔ شاہد علی خان نے دونوں نوجوانوں کو پشاور کے تاریخی مقامات، ثقافتی مراکز اور روایتی بازاروں کا دورہ کروایا۔

انہوں نے والڈ سٹی پشاور، قصہ خوانی بازار، قہوہ خانوں اور دیگر تاریخی مقامات کی سیر کی۔ اس دوران محمد خلیل نے مقامی لوگوں سے ملاقاتیں کیں، ان کی روزمرہ زندگی دیکھی اور پشاور کی ثقافت کو قریب سے سمجھنے کی کوشش کی۔

شاہد علی خان کے مطابق دونوں نوجوان طالب علم تھے، اس لیے انہوں نے ان کے لیے خصوصی انتظامات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف 80 ڈالر میں ٹکٹوں، فوٹوگرافی اور دیگر سہولیات سمیت ان کا دورہ مکمل کروایا گیا۔

پشاور کے دورے کے دوران مسجد مہابت خان بھی ان کی توجہ کا مرکز بنی۔ محمد خلیل نے مسجد کا دورہ کیا جہاں انہوں نے نمازیوں اور قرآن پاک کی تلاوت کرنے والے افراد کو دیکھا۔ بعد ازاں مسجد کے مہمان خانے میں اسلام، تاریخ اور مذہب سے متعلق تفصیلی گفتگو ہوئی۔

شاہد علی خان کے مطابق محمد خلیل نے مذہب کے حوالے سے کئی سوالات کیے اور اسلام کو سمجھنے میں گہری دلچسپی دکھائی۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوان سیاح صرف معلومات حاصل نہیں کر رہے تھے بلکہ مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔

محمد خلیل نے پشاور کے لوگوں کے رویوں اور مہمان نوازی کو اپنے لیے یادگار قرار دیا۔ ان کے مطابق وہ پاکستان آنے سے قبل کچھ خدشات رکھتے تھے، لیکن پشاور پہنچنے کے بعد ان کے تمام خدشات ختم ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ پشاور کے لوگوں کی مسکراہٹ، محبت اور اجنبی ہونے کے باوجود خلوص نے انہیں بہت متاثر کیا۔ ان کے مطابق یہاں کے لوگوں کا رویہ ان کے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔

محمد خلیل کا کہنا ہے کہ پشاور کا سفر ان کے لیے اسلام کو جاننے کا نقطۂ آغاز بنا، تاہم اسلام قبول کرنے کا فیصلہ انہوں نے فوری طور پر نہیں کیا بلکہ تقریباً ایک سال تک مطالعہ، تحقیق اور غور و فکر کے بعد کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اٹلی واپس جانے کے بعد انہوں نے قرآن پاک کا مطالعہ شروع کیا، مختلف مذہبی شخصیات سے گفتگو کی اور اسلام کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس طویل فکری سفر کے بعد انہوں نے کوپن ہیگن میں اسلام قبول کر لیا۔

اسلام قبول کرنے کے بعد محمد خلیل نے عربی زبان سیکھنا شروع کی اور قرآن پاک کی تلاوت بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نماز میں پڑھے جانے والے الفاظ کا مفہوم سمجھنا ان کے لیے ایک انتہائی روحانی تجربہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کوپن ہیگن کی ایک پاکستانی مسجد میں انہیں پہلی مرتبہ اذان دینے کا موقع بھی ملا، جو ان کی زندگی کا ایک ناقابل فراموش لمحہ تھا۔

محمد خلیل کے مطابق ان کے اہل خانہ نے بھی ان کے فیصلے کی مخالفت نہیں کی بلکہ ان کی خواہش کا احترام کیا۔

دوسری جانب ٹورسٹ گائیڈ شاہد علی خان کا کہنا ہے کہ پشاور آنے والے غیر ملکی سیاح صرف تاریخی عمارتوں سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ یہاں کے لوگوں کی محبت، روایات اور مہمان نوازی ان کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پشاور کی اصل پہچان اس کے لوگ ہیں، کیونکہ زندہ تاریخ صرف عمارتوں میں نہیں بلکہ لوگوں کے رویوں، ثقافت اور روایات میں بھی موجود ہوتی ہے۔

شاہد علی خان کے مطابق دنیا میں پشاور کے بارے میں کئی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، لیکن جب سیاح یہاں آتے ہیں تو انہیں ایک مختلف تصویر نظر آتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پشاور تاریخ، ثقافت، محبت اور مہمان نوازی کا شہر ہے۔

محمد خلیل کا پشاور کا دو روزہ سفر اگرچہ مختصر تھا، لیکن اس نے ان کی زندگی پر ایسا اثر ڈالا کہ وہ ایک سال کے غور و فکر کے بعد ایک نئے روحانی راستے پر چل پڑے۔