پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئرلائنز پر مالی دباؤ بڑھ گیا
طویل متبادل روٹس اختیار کرنے کی وجہ سے ایندھن کی کھپت، سفر کا دورانیہ اور آپریشنل لاگت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا،
پاکستانی فضائی حدود بند ہونے کے بعد بھارتی فضائی کمپنیوں کو مالی اور آپریشنل چیلنجز کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی ہوا بازی سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق فضائی راستوں میں تبدیلی کے باعث بھارتی ایئرلائنز کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طویل متبادل روٹس اختیار کرنے کی وجہ سے ایندھن کی کھپت، سفر کا دورانیہ اور آپریشنل لاگت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے اثرات متعدد بین الاقوامی پروازوں پر بھی پڑے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایئر انڈیا نے اپنے حالیہ مالی نتائج میں خسارے کا سامنا کیا ہے۔ کمپنی نے پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کو ان عوامل میں شامل کیا ہے جنہوں نے مالی دباؤ میں اضافہ کیا، جبکہ عالمی سطح پر ایندھن کی بلند قیمتوں اور معاشی غیر یقینی صورتحال کو بھی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
ہوابازی کے بعض ماہرین کے مطابق پاکستانی فضائی حدود بند ہونے کے باعث بھارتی ایئرلائنز کی روزانہ سینکڑوں پروازیں متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جس سے آپریشنل منصوبہ بندی اور اخراجات دونوں متاثر ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی راستوں میں رکاوٹیں نہ صرف ایئرلائنز کی لاگت میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ مسافروں کے سفر کے دورانیے اور شیڈول پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔ تاہم مختلف فریقین کی جانب سے اس معاملے پر الگ الگ مؤقف سامنے آ رہے ہیں اور بعض دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔