دنیا کی نظریں ایران پر،فلسطین میں بہت کچھ بدل گیا

بدترین حملوں کے بعد شدید فوجی آپریشن اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری ہے۔پریس کانفرنس

July 31, 2026 · امت خاص

 

دنیا کی نظریں ایران پر ہیں، فلسطین میں بہت کچھ بدل گیا۔مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے حملے ہورہے ہیں،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کے لیے ایک تاریخی معاہدے کا اعلان کر دیا ہے۔مقبوضہ مغربی کنارے کے قصبے تل اور نابلس میں اسرائیلی فوج اور آباد کاروں کے بدترین حملوں کے بعد شدید فوجی آپریشن اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری ہے۔یہ سب ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب دنیا کی نظریں ایران جنگ پر ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےبورڈ آف پیس کے تعاون سے حماس اور غزہ کے تمام عسکری گروپوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کے معاہدے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔اس کی نگرانی کے لیے ایک بین الاقوامی امن کونسل اور استحکام فورس قائم ہو گی۔معاہدے کے تحت جیسے ہی غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل ہوگا، اسرائیلی افواج غزہ سے بتدریج واپس چلی جائیں گی۔

حماس کے مذاکراتی وفد کے رہنما غازی حمد کے مطابق، وہ غزہ کے عوام کو مزید ہلاکتوں اور نقل مکانی سے بچانے کے لیے لچک دکھا رہے ہیں۔ تاہم حماس نے شرط عائد کی ہے کہ جب تک اسرائیل مکمل طور پر غزہ پٹی سے پیچھے نہیں ہٹتا، عسکری انخلا اور ہتھیار سونپنے کا عمل شروع نہیں کیا جائے گا۔

ہتھیاروں کی منتقلی فلسطینی اتھارٹی کے بجائے ایک قومی سول کمیٹی یا کسی آزاد تیسرے فریق کے سپرد کی جا سکتی ہے۔جنگ بندی کے اگلے مراحل کے نفاذ اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے مصر، قطر، ترکیہ اور امریکی ثالثوں کا اجلاس جلد قاہرہ میں شیڈول ہے، جہاں غزہ کا روزمرہ انتظام سنبھالنے کے لیے ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئی فلسطینی فورس اور سول انتظامیہ متحرک کی جائے گی

نابلس کے قریبی قصبے تل (Tell) میں غیر قانونی اسرائیلی بستی ہاوات گیلاد کے مسلح آباد کاروں نے فلسطینیوں کے گھروں پر دھاوا بولا۔ اس دوران شدید جھڑپوں اور فائرنگ کے نتیجے میں 4 فلسطینی شہید اور 2 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے حکم پر قابض فوج نے مغربی کنارے کے دیہات میں ایک وسیع پیمانے پر جارحانہ فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ اسرائیلی فوج نے قصبہ تل میں داخل ہو کر کئی رہائشی مکانات پر قبضہ کر لیا اور انہیں تفتیشی مراکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ فوجی چھاپوں کے دوران اب تک تل قصبے سے 40 سے زائد نوجوانوں سمیت پورے مغربی کنارے سے کم از کم 70 سے زائد فلسطینیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ اسرائیلی بلڈوزر عمارتیوں اور گھروں کو مسمار کر رہے ہیں، یہودی آباد کاروں نے کئی گاڑیوں، کھیتوں اور رہائشی مکانات کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے (OHCHR) نے خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے حملے اب تک کی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح (All-time high) پر پہنچ چکے ہیں۔ یو این نے اسرائیلی رہنماؤں کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف اجتماعی سزا اور مغربی کنارے کو دوسرا غزہ بنانے کی دھمکیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔