بھارت نے سلال ڈیم سے پانی چھوڑ دیا، پاکستان میں فلڈ الرٹ جاری
بھارت سے تقریباً 90 ہزار کیوسک پانی کا ریلہ پاکستان پہنچنے کا امکان ہے۔
بھارت کی جانب سے سلال ڈیم سے ایک بار پھر پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق بھارت سے تقریباً 90 ہزار کیوسک پانی کا ریلہ پاکستان پہنچنے کا امکان ہے۔
فلڈ حکام کے مطابق ملک کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، تاہم دریائے سندھ کے کچھ مقامات پر نچلے اور درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔ تربیلا اور منگلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دریائے سندھ میں سکھر بیراج کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب موجود ہے، جبکہ کالا باغ، چشمہ اور گڈو بیراج پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔ دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق دریائے جہلم، چناب، ستلج، راوی اور کابل کے بیشتر مقامات پر پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1539 فٹ تک پہنچ گئی ہے اور ڈیم تقریباً 89 فیصد بھر چکا ہے، جبکہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1196 فٹ سے تجاوز کر گئی ہے۔
گڈو بیراج کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ کنٹرول روم کے مطابق وہاں پانی کی آمد 3 لاکھ 36 ہزار کیوسک جبکہ اخراج تقریباً 2 لاکھ 99 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق صوبے کے بیشتر دریاؤں میں صورتحال معمول کے مطابق ہے، تاہم کالا باغ اور چشمہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ حکام نے بتایا کہ مون سون بارشوں کا سلسلہ 5 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب سیف انور جپہ نے خبردار کیا ہے کہ بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث مشرقی دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔