پانچ وکٹیں لینے کے باوجود محمد عباس دوسرے ٹیسٹ سے باہر
ٹیم انتظامیہ نے محمد عباس کی جگہ نوجوان فاسٹ بولر عبید شاہ کو ٹیسٹ ڈیبیو کا موقع دیا
ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے لیے پاکستان ٹیم میں کی گئی تبدیلی نے کرکٹ حلقوں میں بحث چھیڑ دی۔ پہلے ٹیسٹ میں شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرنے والے فاسٹ بولر محمد عباس کو پلیئنگ الیون میں شامل نہیں کیا گیا۔
محمد عباس نے پہلے ٹیسٹ میں مجموعی طور پر آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں، جن میں ایک اننگز میں پانچ وکٹیں لینے کی عمدہ کارکردگی بھی شامل تھی۔ تاہم ٹیم کو میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد دوسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ کے لیے ٹیم میں کئی تبدیلیاں کی گئیں۔
ٹیم انتظامیہ نے محمد عباس کی جگہ نوجوان فاسٹ بولر عبید شاہ کو ٹیسٹ ڈیبیو کا موقع دیا۔ کپتان بابر اعظم نے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں تبدیلیاں پچ کی نوعیت اور میچ کی حکمت عملی کو سامنے رکھ کر کی گئیں۔
دوسری جانب سابق کرکٹرز اور شائقین نے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ کرکٹ حلقوں کے مطابق پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں یہ ایک غیر معمولی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے کہ ایک اننگز میں پانچ وکٹیں لینے والے بولر کو اگلے ہی میچ میں ٹیم سے باہر کر دیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 1980 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پاکستانی بولر کو ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے کے باوجود اگلے ٹیسٹ میچ کی پلیئنگ الیون میں جگہ نہیں دی گئی۔
محمد عباس کی جگہ شامل ہونے والے نوجوان فاسٹ بولر عبید شاہ نے اپنے ٹیسٹ ڈیبیو میں 9 اوورز میں 56 رنز دیے، جس کے بعد ٹیم انتظامیہ کے فیصلے پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے پر آئندہ بھی بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔