کراچی: معروف ہوٹلیئر خالد احمد شیخ کا دوست سمیت ڈیفنس سے مبینہ اغوا، سندھ ہائی کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر
پولیس کی ناکامی پر سندھ ہائی کورٹ کا ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کو نوٹس،پولیس اہلکاروں اور نجی افراد نے ڈیفنس کے گیسٹ ہاؤس پر دھاوا بولا تھا۔
فائل فوٹو
کراچی : پاکستان کے بڑے ہوٹلیئر خالد احمد شیخ دن دیہاڑے ڈیفنس کی حدور سے مبینہ طور پر اغوا کر لیے گئے ،مسلح افراد نے انہیں ڈیفنس گیسٹ ہاؤس سے عدنان حیدر جعفری سمیت اغوا کیا اور ساتھ 10 سےز ائد موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ڈی وی آر اور کیش بھی ہتھیا لی گئی ، ڈیفنس تھانہ کارروائی کرنے سے مسلسل گریزاں تھا ،جس کی وجہ سے متاثرین نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی رٹ پٹیشن داخل کر دی ہے۔عدالت نے ڈی جی رینجرز ، آئی جی سندھ پولیس ، ایس ایچ او ڈیفنس پولیس سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کر دیے ۔
تفصیلات کے مطابق 26جولائی کو رات 10 بج کر51منٹ پر ڈیفنس فیز 2میں واقع گیسٹ ہاؤس سے سابق جی ایم ریجنٹ پلازہ ہوٹل شیخ خالد احمد کو اس وقت اغوا کر لیا گیا جب وہ اپنے دوست عدنان حیدر جعفری و دیگر کے ساتھ گیسٹ ہاؤس میں موجود تھے ، کار، موٹر سائیکل اور بڑی گاڑیوں میں آنے والے پولیس اہلکاروں کے ہمراہ 20 سےزائد پرائیویٹ افراد نے گیسٹ ہاؤس میں اچانک دھاوا بولا اور 10 سے زائد موبائل فون ، میڈیا پرسن کا لیپ ٹاپ ، ڈی وی آراور موقع پر موجود تمام افراد سے کیش نکال لی اور جاتےہوئے شیخ خالد احمد ، عدنان حیدر جعفری کو بھی اغوا کر کے لے گئے، جس کے 10منٹ بعد تھانہ ڈیفنس کی پولیس از خود آئی اور حال احوال لے کر چلی گئی ۔

بعد ازاں تھانہ میں گیسٹ ہاؤس انتظامیہ کی جانب سے درخواست دی گئی تاہم ایس ایچ او تھانہ ڈیفنس اشرف جوگی نے درخواست لینے سے انکار کر دیا تاہم 28 جولائی کو دوبارہ درخواست ریسیو کرائی گئی اور اس کے بعد ایس ایچ او مسلسل ٹال مٹول کر رہا تھاجس کی وجہ سے خالد احمد شیخ اور عدنان حیدر جعفری اور گیسٹ ہائوس انتظامیہ کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ سے آئینی پٹیشن نمبر D-4813کے رجوع کیا گیا، جس میں شنکر سنگ راجپوت ایڈووکیٹ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ان کے موکلین کو بغیر کسی مقدمہ سے اٹھایا گیا ہے اور 8روز گذر جانے کے باوجود بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے ، متعلقہ حکام کو حکم دیا جائے کہ میرے کلانٹس کو بازیاب کرائیں۔
آئینی پٹیشن میں ڈی جی رینجرز سندھ ، آئی جی سندھ ، سیکرٹری ہوم سندھ ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ساؤتھ ، ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس ایچ او تھانہ ڈیفنس سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ، درخواست کی سماعت سندھ ہائی کورٹ میں آئینی بینچ جسٹس محمد سلیم جیسر اور جسٹس عبدالحامد برگڑی نے کی ، جس میں انہوں نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں ۔