سب سے پہلے ہزارہ کو صوبہ بنایا جائے ،سردار محمد یوسف
یہ واحد علاقہ ہے جہاں کی صوبائی اسمبلی 3 دفعہ ہزارہ صوبہ کی قرارداد پاس کر چکی ہے۔سینیٹر طلحہ محمود، مرتضی جاوید عباسی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس
اسلام آباد : وفاقی وزیر مذہبی امور اور چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی جو بات شروع ہوئی ہے ہم اس کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ہزارہ کو صوبہ بنایا جائے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے سینیٹر طلحہ محمود، مرتضی جاوید عباسی، بابر نواز، پروفیسر سجاد قمر، ممبران اسمبلی سیدہ سونیا شاہ، شازیہ جدون کے ہمراہ اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر کوہستان سے پرنس فضل حق، قاری محبوب الرحمن، سردار سید غلام، ملک سجاد اعوان، سردار زاہد منان بھی موجود تھے۔ سردار محمد یوسف نے کہا کہ یہاں آج بات شروع ہوئی ہے ہم سولہ سال یہ ہزارہ صوبہ کی تحریک چلا رہے ہیں۔ اپریل 2010 ء میں ہزارہ کے 7 سپوتوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ہزارہ صوبہ تحریک کی بنیا د رکھی۔سردار شاہ جہان یوسف نے قومی اسمبلی میں اسی وقت ترمیم پیش کی۔ یہ واحد علاقہ ہے جہاں کی صوبائی اسمبلی تین دفعہ ہزارہ صوبہ کی قرارداد پاس کر چکی ہے۔ ہزارہ صوبہ کا بل مرتضی جاوید عباسی، ڈاکٹر سجاد اعوان نے قومی اسمبلی میں پیش کیا جس پر مسلم لیگ کے اراکین نے دستخط کیے۔ اسی طرح سینٹ میں سینیٹر طلحہ محمود نے ہزارہ صوبہ کا بل پیش کیا۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ ہم انتظامی بنیادوں پر صوبہ چاہتے ہیں۔ ہزارہ میں 17 قبائل بستے ہیں اور مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ سردار محمد یوسف نے کہا کہ تمام قومی سیاسی جماعتوں کے سربراہان ہزارہ میں جا کر صوبہ ہزارہ کی حمایت کر چکے ہیں ان میں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، مسلم لیگ ق اور ساری جماعتیں شامل ہیں۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ اب ضرورت ہے کہ عوام کے مطالبے پر توجہ کی جانی چاہیے اور فوری طور پر اس سلسلے کو آگے بڑھایا جائے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ میں محسن نقوی کے موقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں اگر ملک کو ترقی اور استحکام دینا ہے تو ہزارہ صوبہ اور جہاں جہاں ضرورت ہے۔ فوری طور پر نئے صوبے بنائے جائیں۔ ہم محسن نقوی کی ہر بات کی تائید کرتے ہیں۔
مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ ہزارہ ڈویژن کو الگ صوبہ بنایا جائے۔ ہم سولہ سال سے یہ جدوجہد کر رہے ہیں۔ اب اگر یہ بات شروع ہوئی ہے تو ہم اس کی تائید کرتے ہیں۔ ہم نے قربانیاں دی ہیں۔ صوبوں کی بات ہی ہزارہ سے شروع ہوئی ہے۔ہم جمہوریت کے حامی ہیں قائداعظم نے جس پاکستان کی بنیاد رکھی وہ جمہوری پاکستان ہے اس کے علاوہ کوئی نظام نہیں چل سکتا۔ 2021 ء میں ہم نے قومی اسمبلی میں ہزارہ صوبہ کا بل پیش کیا تھا، اس وقت کے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف ن، پیپلزپارٹی، جے یو آئی، آزاد گروپ نے اس کی حمایت کی تھی۔
ممبر قومی اسمبلی بابر نواز نے کہا کہ ہمارا صوبہ خود انحصار ہو گا۔ ہمارے پاس بے پناہ وسائل ہیں ان سے نہ صرف ہزارہ ترقی کرے گا بلکہ ہم مرکز کو مضبوط کریں گے۔ سیدہ سونیا شاہ نے کہا کہ خواتین اس تحریک کا ہراول دستہ ہیں۔ مرکزی کوآرڈینیٹرز پروفیسر سجاد قمر نے کہا کہ آئندہ لایہ عمل طے کرنے کے لیے صوبہ ہزارہ تحریک کہ سینیر لیڈرشپ کا اجلاس کل منعقد ہو گا۔ تحریک کو مسلسل جاری رکھا جائے گا۔