تھانے میں مبینہ زیادتی کیس، اندرونی حقائق نے سب کو چونکا دیا

خاتون کو تھانے کے انویسٹی گیشن روم نمبر 4 میں لے جایا گیا، جہاں اس کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی گئی

August 4, 2026 · جرم وسزا

لاہور: غازی آباد تھانے میں ایک خاتون سے مبینہ زیادتی کے واقعے نے پولیس نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ واقعے کے بعد محکمہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم قرار دیے گئے اے ایس آئی کو گرفتار کر لیا، جبکہ ایس ایچ او، انچارج انویسٹی گیشن سمیت تھانے کے 78 اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ ملزم اے ایس آئی عمران مبینہ طور پر خاتون کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر غازی آباد تھانے لایا۔ گیٹ پر تعینات سنتری نے خاتون کے بارے میں دریافت کیا تو اے ایس آئی نے مبینہ طور پر بتایا کہ خاتون ایک ملزمہ ہے اور اسے تفتیش کے لیے تھانے لایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق خاتون کو تھانے کے انویسٹی گیشن روم نمبر 4 میں لے جایا گیا، جہاں اس کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی گئی۔ الزام ہے کہ واقعے کے بعد اے ایس آئی خود ہی خاتون کو واپس چھوڑ کر آیا۔

پولیس کے مطابق اسی دوران خاتون کے اہلخانہ اس کی گمشدگی کی اطلاع دینے غازی آباد تھانے پہنچے، تاہم کارروائی کے دوران انہیں گھر سے اطلاع ملی کہ خاتون واپس آ گئی ہے۔

واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام نے فوری طور پر محکمانہ تحقیقات کا حکم دیا۔ ابتدائی کارروائی میں ملزم اے ایس آئی عمران کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ انچارج انویسٹی گیشن کو بھی معطل کر دیا گیا۔

بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے غازی آباد تھانے کے ایس ایچ او سمیت پورے تھانے کے 78 اہلکاروں کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ پولیس حکام کے مطابق معطلی کا مقصد شفاف تحقیقات کو یقینی بنانا اور کسی بھی قسم کے اثر و رسوخ سے بچنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور اگر تحقیقات میں مزید اہلکاروں کی غفلت یا ذمہ داری ثابت ہوئی تو ان کے خلاف بھی قانون اور محکمانہ قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

پولیس کا مؤقف ہے کہ کسی بھی اہلکار کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن قانونی اقدام کیا جائے گا۔