آزاد کشمیر اسمبلی کے نو منتخب رکن برطانیہ میں زیادتی کے مقدمے میں پھنس گئے

رخسار احمد کو اگلے 6 ہفتوں کے اندر مانچسٹر پولیس کے سامنے پیش ہونا ہے۔ اگر وہ پیش نہیں ہوتے تو ان کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جا سکتے ہیں ،برطانوی حکام

August 5, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

لندن / مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر سے حال ہی میں دوبارہ رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر رخسار احمد کی برطانیہ میں سنگین الزامات کے تحت گرفتاری اور ضمانت پر رہائی کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق 62 سالہ رخسار احمد کو جولائی 2024 میں مانچسٹر ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ان پر 1990ء کی دہائی میں مانچسٹر کے مختلف کیئر ہومز سے تعلق رکھنے والی کمسن اور بے سہارا لڑکیوں کی زیادتی اور انسانی تسکیر (ٹریفکنگ) میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔

رخسار احمد کو گزشتہ ماہ مانچسٹر کے ایک پولیس اسٹیشن میں پیش ہونا تھا، تاہم انہوں نے “پرواز کے لیے ناساز طبع” کا بہانہ بنا کر حاضری سے معذوری ظاہر کی۔ اس کے برعکس اسی دوران وہ میرپور (آزاد کشمیر) میں انتخابی مہم اور جلسوں میں شرکت کرتے دیکھے گئے۔

گریٹر مانچسٹر پولیس نے ان کی ضمانت کے ساتھ سفری پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کی تھی تاہم جولائی 2024 میں ایک جج نے سخت اقدامات کی استدعا رد کر دی تھی۔

برطانوی حکام کے مطابق رخسار احمد کو اگلے 6 ہفتوں کے اندر مانچسٹر پولیس کے سامنے پیش ہونا ہے۔ اگر وہ پیش نہیں ہوتے تو ان کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جا سکتے ہیں یا ان کی برطانیہ تحویل  کے لیے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے آزاد کشمیر کے ایک سینئر رہنما کے مطابق ہم جانتے تھے کہ رخسار احمد 90ء کی دہائی میں مانچسٹر میں کچھ گروپس کا حصہ رہے ہیں، لیکن اتنے سنگین الزامات کا علم ہمیں ذاتی طور پر نہیں تھا۔

رخسار احمد 2006 سے 2021 تک آزاد کشمیر کی مختلف حکومتوں میں وزیر رہ چکے ہیں اور گزشتہ ہفتے حلقہ (LA-4 میرپور IV) سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر دوبارہ قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

مانچسٹر میں کاروباری حیثیت: وہ مانچسٹر کی مشہور “کری میل” کے قریب سابق ریستوران گجر پیلس (Gujjar Palace) کے مالک ہیں۔ مانچسٹر کی پاکستانی و کشمیری برادری میں ان کا کافی اثر و رسوخ سمجھا جاتا ہے۔

رخسار احمد سے اس حوالے سے موقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم انہوں نے ان الزامات پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔