شیخ حسینہ کے ساتھ نظر آنے پر بنگلہ دیش میں کرکٹر شکیب کے گھر توڑ پھوڑ

حملوں میں متعدد رہائشی عمارتیں، گودام، ایک ریلوے اسٹیشن اور دیگر شہری تنصیبات متاثر ہوئی

August 6, 2026 · بام دنیا

ڈھاکا: بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سابق رکن پارلیمنٹ شکیب الحسن کے آبائی گھر پر نامعلوم افراد نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں عمارت کے ایک حصے کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ دارالحکومت ڈھاکا سے تقریباً 170 کلومیٹر دور ماگورا میں پیش آیا، جہاں مشتعل افراد نے گھر کی کھڑکیاں توڑ دیں اور پیٹرول بم پھینکے، جس سے عمارت کی بالائی منزل پر آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کے وقت گھر خالی تھا۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب شکیب الحسن نئی دہلی سے منعقدہ ایک ورچوئل پروگرام میں شریک ہوئے، جس میں بنگلہ دیش کی معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے بھی خطاب کیا۔ اپنی گفتگو میں شیخ حسینہ نے اعلان کیا کہ وہ دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے کا ارادہ رکھتی ہیں، باوجود اس کے کہ انہیں مختلف مقدمات اور عدالتی فیصلوں کا سامنا ہے۔

شکیب الحسن، جو 2024 کے عام انتخابات میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے، حکومت کی تبدیلی کے بعد سے بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ بنگلہ دیشی حکام کے مطابق انہیں قتل، غبن، فراڈ اور منی لانڈرنگ سمیت متعدد مقدمات میں تفتیش کا سامنا ہے، جبکہ شکیب کی جانب سے ان الزامات پر کوئی تازہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اپنے خطاب میں شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ ہر صورت اپنے ملک واپس جائیں گی، چاہے انہیں گرفتاری یا دیگر قانونی نتائج کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ عوامی لیگ پر عائد پابندی ختم کی جائے تاکہ جماعت دوبارہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکے۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے بھارت سے شیخ حسینہ کے میڈیا خطاب پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ملک کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ اگست 2024 سے بھارت میں مقیم ہیں، جبکہ بنگلہ دیش ان کی حوالگی کا مطالبہ کر چکا ہے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ اس درخواست کا جائزہ قانونی طریقہ کار کے مطابق لیا جا رہا ہے۔