پاک سعودی ترک دفاعی معاہدہ، کسی ملک کے خلاف نہیں:سعودی نائب وزیر

معاہدے سے قبل تینوں ممالک کے درمیان طویل عرصے تک تفصیلی مشاورت اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔

August 9, 2026 · بام دنیا

ریاض: سعودی وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر ڈاکٹر رائد قرملی نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی بھی علاقائی ملک کے خلاف نہیں اور نہ ہی اسے کسی ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جانا چاہیے۔

سعودی عہدیدار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کئی دہائیوں سے قائم تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق معاہدے سے قبل تینوں ممالک کے درمیان طویل عرصے تک تفصیلی مشاورت اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔

ڈاکٹر رائد قرملی کے مطابق معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا، دفاعی تیاری میں بہتری لانا اور مستقبل کی سٹریٹیجک دفاعی ضروریات کے لیے اپنی صلاحیتیں ترقی دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے ذریعے اپنی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو لاحق ممکنہ خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا چاہتے ہیں۔

سعودی نائب وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی نئے فوجی اتحاد یا فرقہ وارانہ بنیادوں پر کسی بلاک کے قیام کی کوشش نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کا جوہری عزائم یا خطے میں ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع کرنے سے بھی کوئی تعلق نہیں۔

رائد قرملی نے کہا کہ معاہدے کا اصل مقصد تینوں ممالک میں پائیدار اور خود انحصار دفاعی صلاحیتیں پیدا کرنا ہے تاکہ وہ اپنی سلامتی کے معاملات میں زیادہ مؤثر انداز میں ایک دوسرے کا ساتھ دے سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ دفاعی تعاون سعودی عرب کے خلیجی، عرب اور عالمی سطح پر موجود مضبوط اسٹریٹجک تعلقات کو متاثر نہیں کرے گا۔

سعودی عہدیدار کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد کسی دو ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کرنا ہے۔ ان کے بقول یہ معاہدہ دفاعی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے دائرے تک محدود ہے۔