پنجاب کو پاکستان میں شامل کرنے کے لیے کاسٹنگ ووٹ آیاتھا، حقیقت یا فسانہ؟
23جون 1947 کو رائے شماری مسلم بلاک اور غیر مسلم بلاک میں الگ الگ تھی
پنجاب اسمبلی۔ فائل فوٹو
ماسٹرتاراسنگھ پنجاب اسمبلی کے باہر سیڑھیوں پر کرپان لہرارہا تھا۔۔۔۔۔ اندر تین اقلیتی اراکین اور غیر مسلم اسپیکر کاسٹنگ ووٹ سے صوبے کو پاکستان میں شامل کرارہے تھے۔یہ سنسنی خیز کہانی درحقیقت غلط بیانی پر مبنی ہے اور تاریخی حقائق اس کی تائید نہیں کرتے۔
23 جون 1947ء کو پنجاب اسمبلی میں ایسا کوئی مرحلہ ہی پیش نہیں آیا جہاں اسپیکر کو کاسٹنگ ووٹ دینا پڑتا۔ ووٹنگ اس پرہوئی تھی کہ کیا پنجاب کو مذہبی بنیادپر تقسیم کیا جائے ۔رائے شماری مسلم بلاک اور غیر مسلم بلاک میں الگ الگ تھی۔
مغربی یعنی مسلم بلاک نے 27کے مقابلے میں 69 ووٹ سے متحدرکھنے اور مشرقی یعنی غیر مسلم بلاک نے 22کے مقابلے میں 50 ووٹ سے تقسیم کے حق میں فیصلہ دیا۔دوسری کہانی کہتی ہے کہ 88 کے مقابلے میں 91 ووٹ ہوئے تھے۔ ایس پی سنگھا نے کاسٹنگ ووٹ دے کر فیصلہ پاکستان کے حق میں کر دیا، تاریخی ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتی۔
تاریخی حقیقت کیا ہے، اس کے لیے وڈیو دیکھیں۔