پولیس حراست میں ہلاک خواتین نے تھانے میں شربت پیاتھا،گرفتارکرانے والارشتہ دارنکلا
ضابطہ فوجداری 176 کے تحت جوڈیشل انکوائری مکمل
لاہور ٹاؤن شپ میں پولیس حراست کے دوران دو خواتین کی پراسرارموت کے معاملے پر ضابطہ فوجداری 176 کے تحت جوڈیشل انکوائری مکمل ہوگئی، جوڈیشل مجسٹریٹ کامران کرامت نے رپورٹ میں خواتین پر تشدد کی تردید کردی۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق ،جوڈیشل مجسٹریٹ نے ازخود لاشوں کا معائنہ کیا۔دوران انکوائری خواتین پر تشدد کے کوئی شواہد نہیں ملے۔دونوں خواتین کو مردہ حالت مین اسپتال لایا گیا۔
لاہور میں گلی گلی گھوم کر پنسلیں بیچنے والی دو خواتین کی پولیس حراست میں موت کا معاملہ جہاں اب تک سلجھ نہیں سکا، وہیں دو نئے پہلو سامنے آگئے۔ دونوں خانہ بدوش خواتین کو گرفتار کرانے والا ذیشان لطیف ان کا رشتے دار نکلا۔ تھانے میں انہیں کچھ پلایا بھی گیا تھا۔
پولیس کے ریکارڈ اور درجن سے زائد سی سی ٹی وی ویڈیوز نے پوری کہانی کافی حد تک بیان کردی۔ خواتین کا مبینہ کرمنل ریکارڈ بھی سامنے آگیا۔ لیکن سب سے اہم سوال کا جواب باقی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں چار اگست کو دن ڈھائی بجے یہ خواتین انمول اور آمنہ پانی پینے کے بہانے ذیشان لطیف نامی شخص کے گھر داخل ہوئیں، اس کی بیوی سے سونے کی بالیاں اور پانچ ہزار روپے ہتھیا لیے، ذیشان کے پہنچنے پر بالیاں واپس کردیں لیکن رقم دینے سے انکار اور اور شور مچایا، پولیس بلائی گئی جو انہیں گرفتار کرکے لے گئی۔
سی سی ٹی فوٹیج میں خواتین ایک گھر کے دروازے پر دکھائی دیتی ہیں اور بظاہر خاتون خانہ کے کانوں کو ہاتھ بھی لگا رہی ہیں۔
ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خواتین اسی شام 5 بجے ٹاؤن شپ تھانے میں تھیں۔ وہاں ان کی حالت درست تھی، وہ پولیس اہلکار سے گفتگو بھی کر رہی تھی۔ یہ پانچ بج کر 26 منٹ پر تھانے کے اندر چلتی دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن تھانے لائے جانے اور گرفتاری سے پہلے لوگ انہیں تشدد کا نشانہ بنا چکے تھے۔ پولیس پہنچنے سے پہلے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں وہ کہہ رہی ہیں کہ ان کے کپڑے پھاڑے گئے ہیں، مارا پیٹا گیا ہے اور انہیں جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شام 5 بج کر 26 منٹ کے بعد انہیں ٹاؤن شپ سے تھانہ لٹن روڈ منتقل کیا جا رہا تھا، راستے میں خواتین کی طبیعت خراب ہوئی۔ انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئیں۔