اے ایف سی، یوئیفا اور کونکاکاف کا فیفا قیادت کے خلاف کھلا خط
معاملہ صرف مالی معاملات تک محدود نہیں بلکہ فٹبال کی شفافیت، ادارہ جاتی اعتماد اور قیادت کی ذمہ داریوں سے متعلق ہے۔
فٹبال کی تین بڑی علاقائی تنظیموں ایشین فٹبال کنفیڈریشن، یوئیفا اور کونکاکاف نے فیفا کی قیادت کے حالیہ فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ طور پر کھلا خط جاری کردیا۔
تینوں کنفیڈریشنز کے سربراہان اور جنرل سیکریٹریز کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا ہے کہ معاملہ صرف مالی معاملات تک محدود نہیں بلکہ فٹبال کی شفافیت، ادارہ جاتی اعتماد اور قیادت کی ذمہ داریوں سے متعلق ہے۔
خط میں فیفا ورلڈکپ سے متعلق حصص فروخت کرنے کی مبینہ کوشش پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تینوں تنظیموں کے مطابق اس معاملے کو محض رابطے یا طریقہ کار کی خرابی قرار دینا کافی نہیں، کیونکہ ان کے نزدیک یہ فیصلہ سازی کے نظام اور ادارہ جاتی اعتماد کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
مشترکہ خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کسی بھی بڑی تجویز پر رکن ممالک اور متعلقہ فریقوں سے مناسب مشاورت ضروری ہے۔ تنظیموں کے مطابق مذکورہ تجویز محدود وقت میں آگے بڑھائی گئی اور ارکان کو اس کی شرائط کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے مناسب وقت نہیں ملا۔
اے ایف سی، یوئیفا اور کونکاکاف نے فیفا کی جانب سے معاملے کا اندرونی جائزہ لینے کی تجویز پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ تینوں اداروں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی تحقیقات مکمل طور پر آزاد تیسرے فریق سے کرائی جائیں تاکہ تحقیقات کی شفافیت اور غیر جانب داری برقرار رہے۔
خط میں کہا گیا کہ فیفا انتظامیہ، ملازمین یا فٹبال سے وابستہ کسی متعلقہ فریق کو تحقیقات کے عمل میں کردار نہیں دینا چاہیے۔ اس کے ساتھ تمام متعلقہ دستاویزات اور ریکارڈ محفوظ رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔
تینوں کنفیڈریشنز نے مراکش میں ہونے والے ایک اجلاس کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق اجلاس میں منتخب عہدیداروں اور فیفا کونسل کے ارکان کی محدود شرکت نے فیصلہ سازی کے عمل سے متعلق مزید خدشات پیدا کیے ہیں۔
مشترکہ خط میں واضح کیا گیا کہ اعتراض فٹبال کی آمدن یا گزشتہ برسوں میں کیے گئے اجتماعی فیصلوں پر نہیں بلکہ قیادت کے طرز عمل اور ادارہ جاتی شفافیت پر ہے۔
تینوں تنظیموں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں فٹبال کی ترقی کسی ایک شخصیت کی کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ فیفا، علاقائی کنفیڈریشنز، رکن ممالک اور کھیل سے وابستہ مختلف اداروں کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن ہوئی ہے۔
اے ایف سی، یوئیفا اور کونکاکاف نے اس بات پر زور دیا کہ ورلڈکپ کی میزبانی، ٹورنامنٹس میں توسیع اور رکن ممالک کے لیے وسائل کی فراہمی جیسے اہم فیصلے اجتماعی مشاورت سے کیے جاتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی یہی طریقہ برقرار رہنا چاہیے۔
تینوں اداروں نے فیفا کے مالی وسائل کو رکن ممالک کی ترقی اور فٹبال کے فروغ کے لیے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
خط کے اختتام پر کہا گیا کہ فٹبال کی اصل طاقت اس کے اتحاد میں ہے اور قیادت کا بنیادی مقصد کھیل کی خدمت ہونا چاہیے، نہ کہ اختیارات کو کسی ایک فرد یا محدود حلقے تک مرکوز کرنا۔
خط پر اے ایف سی کے صدر سلمان بن ابراہیم الخلیفہ، یوئیفا کے صدر الیگزینڈر چےفرین، کونکاکاف کے صدر وکٹر مونٹاگلیانی اور تینوں تنظیموں کے جنرل سیکریٹریز کے دستخط موجود ہیں۔