ایران امریکا کشیدگی،عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا ہونے کا خدشہ

برینٹ کی اوسط قیمت اب 86.81 ڈالر فی بیرل رہنے کی توقع ہے، جبکہ اس سے قبل یہ تخمینہ 81.91 ڈالر تھا۔

August 12, 2026 · کامرس

واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کے حوالے سے نئے اندازے سامنے آگئے ہیں۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) نے موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے رواں سال برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت کا تخمینہ بڑھا دیا ہے۔ ادارے کے مطابق برینٹ کی اوسط قیمت اب 86.81 ڈالر فی بیرل رہنے کی توقع ہے، جبکہ اس سے قبل یہ تخمینہ 81.91 ڈالر تھا۔

اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی اوسط قیمت کا اندازہ بھی بڑھا کر 80.88 ڈالر فی بیرل کردیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ پیش گوئی میں یہ قیمت 76.26 ڈالر مقرر کی گئی تھی۔

EIA کے مطابق آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل سے متعلق مشکلات اگست کے دوران بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں طویل عرصے تک رکاوٹ عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔

دوسری جانب 2027 کے لیے تیل کی قیمتوں کا تخمینہ نسبتاً کم رکھا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 69.39 ڈالر جبکہ WTI کی قیمت 65.39 ڈالر فی بیرل رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آتی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بحال ہوتی ہے تو مستقبل میں قیمتوں میں کمی کا امکان موجود ہے۔ تاہم کشیدگی میں اضافے یا ترسیل میں مزید رکاوٹ کی صورت میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔

عالمی توانائی مارکیٹ میں اس وقت ایران امریکا کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور تیل کی عالمی رسد کو اہم عوامل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ صورتحال میں کسی بھی بڑی تبدیلی سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ پیدا ہوسکتا ہے۔