نئے صوبوں پرغیرت جاگتی ہے،گٹرمیں گرنے سے بچوں کی اموات پرکیوں نہیں؟مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر نے نئےصوبوں کے قیام اور موجودہ نظام کی اصلاح کو ضروری قرار دے دی

August 12, 2026 · قومی

اس وقت ملک میں نئے صوبوں کا بننا ضروری ہے، پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے رقبے کئی ممالک بڑے ہیں: وفاقی وزیر برائے صحت۔ فوٹو فائل

 

وفاقی وزیر  صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ صوبوں کی بات ہو تو عزت اور غیرت کی بات کی جاتی ہے، لیکن بچے گٹر میں گر کر مرتے ہیں تو کسی کی غیرت کیوں نہیں جاگتی۔

پاکستان فارما ہیلتھ کیئر ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاک بھارت جنگ ہوئی جس میں اللہ نے پاکستان کو فتح دی۔ پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سربراہی میں دشمن کو 6 دنوں میں شکست دی، جس کے بعد دنیا نے سوچ لیا کہ دفاع کے اعتبار سے پاکستان سے اچھا کوئی دوست نہیں ہوسکتا۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم نے تیسری عالمی جنگ سے دنیا کو بچایا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت ملک میں نئے صوبوں کا بننا ضروری ہے۔ وفاق ہر سال 8884 ارب روپے صوبوں کو بانٹ دیتا ہے، اتنی بڑی رقم 4 وزرائے اعلیٰ کو مل جاتی ہے، لیکن فنڈز یوسیز تک جانے کا نظام نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا صوبے کئی ممالک سے بڑے ہیں، سندھ 165 ممالک سے بڑا ہے۔ بلوچستان 180 ممالک کے رقبوں سے بڑا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کے عوام 3 کروڑ 70 لاکھ تھے تو 4 صوبے تھے، اب ساڑھے 26 کروڑ آبادی ہو چکی ہے لیکن اب بھی چار صوبے ہیں۔ سری لنکا کے 9، ایران کے 23 اور بھارت کے بھی کئی صوبے ہیں۔ صوبے بنانے سے ملک ٹوٹتا نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔ کچھ تو ایسا ہے کہ یہ نظام غدار پیدا کر رہا ہے اور لوگ بندوق اٹھا لیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں لڑائی ہو رہی ہے، ہمارے فوجی افسر شہید ہو رہے ہیں، اس جنگ میں بیرونی عناصر شامل ہیں، ہمیں اس نظام کو بھی جڑ سے بہتر کرنا ہوگا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبوں کی بات ہو تو کہا جاتا ہے کہ عزت اور غیرت کی بات ہے، جب گٹر میں گر کر بچے مرتے ہیں تو اس وقت کسی کی غیرت کیوں نہیں جاگتی؟

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف 14 گھنٹے کام کر رہے ہیں، ان کے ساتھ کام کرنا بہت مشکل ہے، آپ وزیراعظم سے ادھر ادھر کی بات نہیں کرسکتے۔ وہ 3 بار وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ اب وزیراعظم کا کام گٹر کے ڈھکن لگانا نہیں، نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ساری جماعتیں بیٹھ کر بات کریں اور موجودہ معاملات کا آئینی حل نکالیں۔