ایبولا وبا بے قابو ہوئی تو تباہی مچا سکتی ہے،ڈبلیو ایچ او

وائرس اسی رفتار سے پھیلتا رہا تو ماضی کی بڑی ایبولا وباؤں کے مقابلے میں زیادہ تباہ کن صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

August 13, 2026 · بام دنیا

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمہوریہ کانگو میں پھیلنے والی ایبولا وبا کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر وائرس کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو یہ ایبولا کی تاریخ کی سب سے ہلاکت خیز وباؤں میں شامل ہو سکتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس کے مطابق موجودہ صورتحال میں وبا کے پھیلاؤ کو فوری طور پر محدود کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وائرس اسی رفتار سے پھیلتا رہا تو ماضی کی بڑی ایبولا وباؤں کے مقابلے میں زیادہ تباہ کن صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق رواں سال ایبولا کی وبا کا باضابطہ اعلان 15 مئی کو کیا گیا تھا۔ اب تک ہزاروں افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 2 ہزار سے زائد اموات رپورٹ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ آئندہ تین ماہ کے دوران وائرس کی منتقلی کی رفتار کم کرنے کی کوششیں تیز کی جا رہی ہیں۔ تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ وبا کے پھیلاؤ کو قابو میں لانا وائرس کے مکمل خاتمے کے مترادف نہیں ہوگا۔

حکام کے مطابق شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ باضابطہ اعلان سے کئی ماہ پہلے شروع ہو چکا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں بعض مریضوں کی علامات کو ملیریا یا ٹائیفائیڈ سے منسوب کیے جانے کے باعث وبا کی بروقت شناخت میں مشکلات پیش آئیں۔

ڈبلیو ایچ او کے افریقہ ریجن کے حکام نے صورتحال کی سنگینی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کے ادارے وائرس کا مسلسل تعاقب کر رہے ہیں، تاہم وبا کی رفتار ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

رواں سال سامنے آنے والی وبا ایبولا وائرس کی بنڈیبوجیو قسم سے منسلک ہے۔ یہ قسم ماضی میں بھی مختلف وباؤں کا سبب بن چکی ہے اور اس کے خلاف طبی ماہرین کو محدود وسائل کے ساتھ کام کرنا پڑ رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق وائرس کی اس قسم کے خلاف دستیاب طبی سہولیات اور حفاظتی اقدامات کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا وبا پر قابو پانے کے لیے اہم ہوگا۔