سوشل میڈیا پر تصاویر دیکھ کر دل ہارنے والے سابق ایم پی اے کیساتھ ہاتھ ہو گیا
ویڈیو کال پر نکاح والے دن بھی خاتون نے چہرے پر نقاب کیا ہوا تھا اور اپنا اصل چہرہ نہیں دکھایا۔نقاب اٹھا تو اڑ گئے ہوش!
کراچی: سوشل میڈیا پر تصاویر دیکھ کر نکاح کرنے والے سابق رکنِ اسمبلی کے ساتھ ہاتھ ہو گیا، غلام رسول نے خاتون پر مقدمہ درج کرانے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق سابق رکنِ سندھ اسمبلی غلام رسول انڑ آرٹیفیشل انٹیلی جنس ( اے آئی) اور سوشل میڈیا کے ذریعے کیے جانے والے انوکھے فراڈ کا شکار ہو گئے۔
جعلی اے آئی تصاویر اور بلیک میلنگ کے خلاف انہوں نے خاتون پر مقدمہ درج کرانے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔
سابق پی ایس اے نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں دائر کردہ درخواست میں موقف اپنایا کہ ان کی سوشل میڈیا پر ایک خاتون سے بات چیت شروع ہوئی جس کا کبھی اصلی چہرہ دیکھے بغیر 23 فروری کو ویڈیو کال کے ذریعے نکاح ہوا۔
وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ جب بھی خاتون سے چہرہ دکھانے کی فرمائش کی جاتی تو وہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ خوبصورت تصاویر شیئر کر دیتی تھی۔
وکیل نے بتایا کہ ویڈیو کال پر نکاح والے دن بھی خاتون نے چہرے پر نقاب کیا ہوا تھا اور اپنا اصل چہرہ نہیں دکھایا۔
نکاح کے بعد جب سابق رکنِ اسمبلی نے خاتون کو حقیقت میں دیکھا تو وہ تصاویر سے بالکل مختلف اور غیر معمولی نکلیں، اصل چہرہ سامنے آنے پر انہوں نے خاتون سے فوری دوری اختیار کر لی اور بعد میں 2 اگست کو باقاعدہ طلاق دے دی۔
وکیل نے الزام لگایا کہ طلاق سے پہلے اور بعد میں خاتون نے سوشل میڈیا پر غلام رسول انڑ کے مرنے کی جعلی اور ترمیم شدہ تصاویر و پوسٹس وائرل کرائیں۔
طلاق کے بعد سے اب خاتون کی جانب سے کروڑوں روپے کی ڈیمانڈ کی جا رہی ہے اور نہ دینے پر انہیں بلیک میل کرنے کے ساتھ ساتھ جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ خاتون کے خلاف سائبر کرائم سے متعلق ادارے این سی سی آئی (NCCI) میں بھی شکایت درج کرائی جا چکی ہے۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ایس پی کمپلین سیل اور ایس ایچ او ڈیفنس کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور پولیس کو 17 اگست تک تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔