امریکی طیارہ بردار جہاز پر جھگڑے میں 7 ہلاکتوں کی خبریں- اراکین کانگریس جواب مانگنے لگے
سینٹرل کام اردو سمیت کئی زبانوں میں تردید جاری کرنے پر مجبور- تھکن کے سبںب فوجیوں نے سمندر میں کودنے کی کوشش کی- امریکی فوجی جرائد
مشرقِ وسطیٰ میں جنگی مشنز پر تعینات امریکی جوہری طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن (USS Abraham Lincoln) پر افسران اور عملے کے درمیان چاقو زنی کے نتیجے میں 7 ہلاکتوں کی خبریں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں جس کے بعد امریکہ سینٹرل کمانڈ تردید جاری کرنے پر مجبور ہوگئی جب کہ امریکی اراکین کانگریس نے اس معاملے پر جواب مانگ لیا ہے۔
اس مبینہ خونی تصادم اور ہلاکتوں کا سنسنی خیز انکشاف سب سے پہلے ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ نے ایک نامعلوم فوجی ذریعے کے حوالے سے کیا تھا۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل ترین اور کٹھن تعیناتی کے خلاف احتجاج کرنے والے اہلکاروں کو پرسکون کرنے کے لیے جب یو ایس سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مشیر جہاز پر پہنچے تو عملے نے ان پر بوتلیں پھینکیں، جس کے بعد بدمزگی اتنی بڑھی کہ اہلکار آپس میں بھڑ گئے اور چاقو کے وار کر کے 7 فوجیوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ تاہم، امریکی حکام کے مطابق اس سے قبل جہاز پر گرتی ہوئی ذہنی صحت اور دگرگوں حالات کا اصل انکشاف امریکی فوجی اخبارات ‘نیوی ٹائمز’ اور ‘اسٹارز اینڈ اسٹرائپس’ نے کیا تھا، جہاں ہلاکتوں کا تو کوئی ذکر نہیں تھا لیکن یہ بتایا گیا تھا کہ شدید تھکن سے تنگ آ کر کچھ فوجیوں نے جہاز سے سمندر میں کودنے کی کوششیں کی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ وائرل ہونے اور امریکی عوام و ارکانِ اسمبلی کی جانب سے شدید دباؤ کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) اور پینٹاگون باقاعدہ تردیدیں جاری کرنے پر مجبور ہوئے۔ امریکی حکام نے ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر جاری ایک بیان میں واضح کیا کہ ہلاکتوں کی خبریں سراسر جھوٹ اور دشمن کا پروپیگنڈا ہیں جس کا مقصد جنگ کے دوران امریکی افواج کے حوصلے پست کرنا ہے۔ حکام نے وضاحت کی کہ 3 اگست کو صرف ایک اہلکار سمندر میں گرا تھا جسے ایک گھنٹے کے اندر بحفاظت نکال لیا گیا تھا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
🚫دعویٰ: گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران متعدد میڈیا اداروں نے یو ایس ایس ابراہم لنکن(CVN 72) کی مشرقِ وسطیٰ میں تعیناتی سے متعلق کئی غلط اور بے بنیاد دعوے نشر کیے ہیں۔ ایک رپورٹ میں سات سیلرز کے جہاز پر جھڑپ میں ہلاک ہونے کا جھوٹا الزام لگایا گیاا، جبکہ دیگر رپورٹس میں خودکشی کے خیالات… pic.twitter.com/GIpLxjy6Z1
— U.S. Central Command – URDU (@CENTCOMUrdu) August 14, 2026
دفاعی ماہرین کے مطابق پینٹاگون کی اس فوری وضاحت کی اصل وجہ جہاز پر جاری وہ حقیقی بحران ہے جسے چھپانا اب مشکل ہو رہا ہے۔ یو ایس ایس ابراہام لنکن 260 سے زائد دنوں سے سمندر میں موجود ہے اور اس نے بغیر کسی بندرگاہ پر رکے مسلسل 240 دن پانیوں میں گزارنے کا ایک کٹھن ریکارڈ بنایا ہے۔ طویل ترین ڈیوٹی کے باعث جہاز پر خوراک کی شدید قلت، پینے کے صاف پانی کی کمی، ٹوائلٹس کی خرابی اور عملے میں شدید ذہنی دباؤ پایا جاتا ہے جس پر امریکی سینیٹرز نے بھی پینٹاگون سے سخت جواب طلبی کر رکھی ہے۔ اب خاندانی اور سیاسی دباؤ کے بعد پینٹاگون نے اس طیارہ بردار جہاز کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی جگہ [یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مشرقِ وسطیٰ روانہ کر دیا گیا ہے۔