سعودی عرب نے اپنی نصابی کتب سے یہود مخالف مواد نکالنا شروع کردیا، امریکی عہدیدار کا دعویٰ

یہود دشمنی کیخلاف محکمہ خارجہ کے خصوصی نمائندہ ربی کاپلون کی جانب سے نصابی اصلاحات کی تعریف

August 14, 2026 · امت خاص, بام دنیا

دنیا بھر میں یہود مخالف سرگرمیوں کو پکڑنے اور روکنے کیلئے امریکی محکمہ خارجہ کے خصوصی نمائندے امباسڈر ربی یہودا کاپلون نے سعودی عرب کی اسکول نصابی کتب میں اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکومت اپنے نصاب کو بہتر بنانے اور تشویش ناک موضوعات سے نمٹنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

کاپلون جو Special Envoy to Monitor and Combat Antisemitism کے عہدے پر کام کرتے ہیں نے اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ (@StateSEAS) پر 13 اگست 2026 کو لکھا:
“ہم سعودی عرب کی اسکول نصاب کو بہتر بنانے کی مسلسل کوششوں کی تعریف کرتے ہیں، جن میں نصابی کتب میں تشویش ناک موضوعات سے نمٹنے کا کام بھی شامل ہے۔ صدر ٹرمپ اور سیکرٹری روبیو واضح کر چکے ہیں کہ ابراہام ایکارڈز کے جذبے میں، آئیے اپنے مشترکہ باپ دادا ابراہیم کے ویژن پر تعمیر کریں تاکہ ہمارے لوگوں کے درمیان امن اور بقائے باہمی کو فروغ دیا جا سکے۔”

امباسڈر ربی یہودا کاپلون امریکی محکمہ خارجہ کے خصوصی نمائندے ہیں جو عالمی سطح پر یہود دشمنی (antisemitism) کی نگرانی اور اس کے خلاف جدوجہد کے ذمہ دار ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں 2025 میں اس عہدے کے لیے نامزد کیا تھا اور سینیٹ نے دسمبر 2025 میں ان کی تصدیق کی تھی۔ وہ اس عہدے پر پرائمری مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

کاپلون کا یہ بیان اسرائیلی تھنک ٹینک IMPACT-se (Institute for Monitoring Peace and Cultural Tolerance in School Education) کی حالیہ رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں 2024-26 کے سعودی نصاب کی 136 نصابی کتب کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے عیسائیوں اور یہودیوں کے خلاف عدم رواداری والے زیادہ تر “مسئلہ ساز موضوعات” کو دور کر دیا ہے۔ اس میں یہودیوں اور عیسائیوں کو معذور جانوروں سے تشبیہ دینے والی حدیث کا خاتمہ، سامی دشمنی والی زبان کا تقریباً خاتمہ، اور پیغمبر محمد ﷺ کے عیسائیوں و یہودیوں کے ساتھ معاہدوں پر مبنی بقائے باہمی کے اسباق شامل ہیں۔ یہ اصلاحات سعودی ویژن 2030 کے مقاصد کے مطابق اعتدال اور شمولیت کی طرف پیش رفت قرار دی گئی ہیں۔ البتہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے اور اسے “قبضہ کرنے والی طاقت” قرار دینے جیسے پہلو اب بھی موجود ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے اس معاملے پر کوئی سرکاری یا نیم سرکاری بیاں سامنے نہیں آیا۔