دو فلسطینی خاندانوں کا 6 روز سے محاصرہ جاری

مغربی کنارے میں صہیہونی آبادکاروں نے گھیر رکھا ہے- متعدد فلسطینی بھی گرفتار- مسجد اقصی پر انتہا پسند یہودیوں کا پھر دھاوا

August 14, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

غزہ پر صیہونی بمباری کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ دو خاندانوں کا محاصرہ بھی کرلیا گیا ہے۔

دوسری جانب گزشتہ روز انتہا پسند آبادکاروں نے مسجدِ اقصیٰ پر ایک بار پھر دھاوا بولا۔ جبکہ نمازِ جمعہ کے اجتماعات کو روکنے کیلئے صیہونی افواج نے سخت پابندیاں عائد کردی گئیں۔

الشہاب نیوز ایجنسی کے مطابق قابض فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں میں بمباری اور فائرنگ کا سلسلہ تیزکردیا ہے۔ گزشتہ روزبیت لاہیہ کے شمال مغربی اور مشرقی حصوں کو ٹینکوں کی فائرنگ اور دھماکوں سے نشانہ بنایا گیا۔

غزہ سٹی کے جنوب مشرق میں واقع محلہ زیتون اور وسطی غزہ میں بوارئج کیمپ کے شمالی علاقوں پر بھی توپ خانے سے شدید گولہ باری کی گئی۔ جبکہ جنوبی غزہ میں خان یونس کے مشرقی علاقوں، طینہ اسٹریٹ اور خان یونس میں بے گھر افراد کے خیموں پر اسرائیلی ٹینکوں کی براہِ راست فائرنگ کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔

اسی دوران اسرائیلی جارحیت کا ایک اور دردناک واقعہ بھی سامنے آیا۔ خان یونس میں 11 سالہ معصوم بچہ سر اور ٹانگ پر گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔

گزشتہ روز مزید ایک فلسطینی شہید اور7 افراد زخمی ہو کر اسپتالوں میں پہنچے۔ جبکہ امدادی ٹیموں کی رسائی نہ ہونے کے باعث متعدد افراد اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہیں۔ 8 اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی جارحیت شہدا کی مجموعی تعداد بڑھ کر 73 ہزار 389 تک پہنچ گئی ہے۔ جبکہ ایک لاکھ 74 ہزار266 افراد زخمی ہیں۔

ادھر نئے عبرانی مہینے کے آغاز پر گزشتہ روز درجنوں صہیونی آبادکاروں نے بدنامِ زمانہ ربی یہودا گلک کی قیادت میں باب المغاربہ کے راستے مسجدِ اقصی کے صحنوں پردھاوا بولا اور اسرائیلی پولیس کی بھاری نفری کی نگرانی میں شدید اشتعال انگیز کارروائیاں کیں۔

یروشلم کے مقامی ذرائع کے مطابق آبادکاروں نے گنبدِ صخرہ کے سامنے اسرائیلی پرچم لہرایا اور رقص و سرود کی محفلیں سجائیں۔ اسی طرح آج جمعہ المبارک کے موقع پر مسجدِ اقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں کی آمد کو روکنے کیلئے پرانے شہر اور قبلہ اول کے گرد و نواح میں سخت فوجی ناکہ بندی کا سلسلہ تیزکردیا گیا ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں قصرہ میں اسرائیلی انتہا پسندوں اور فوجیوں نے دہشت گردی کا نیا سلسلہ شروع کرتے ہوئے دو فلسطینی خاندانوں کے گھروں کا محاصرہ کررکھا ہے۔

پچھلے اتوار سے جاری اس محاصرے کے دوران آبادکاروں نے یوسف حسن کے خاندان اور ایک دوسری فیملی کی بجلی اور پانی کی ترسیل منقطع کردی۔ بین الاقوامی حقوقِ انسانی کی تنظیم ’بی تسلیم‘ کے ڈائریکٹر یولی نوواک نے خبردار کیا ہے کہ قصرہ میں محاصرہ ایک نیا محاذ کھول رہا ہے۔