حزب اللہ کمانڈر کی شہادت کے بعد امریکا سے مذاکرات روک دیے گئے،قالیباف

اسرائیلی کارروائی کا جواب دیا جائے گا اور اگر اسرائیل کی جانب سے مزید ردعمل سامنے آیا تو کارروائی کا دائرہ وسیع کیا جاسکتا ہے۔

August 15, 2026 · بام دنیا

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ مذاکراتی عمل میں اہم کردار ادا کرنے والے محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی بیروت میں اسرائیلی حملے کے بعد ایران نے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات معطل کردیے تھے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق قالیباف نے بتایا کہ جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں اسرائیلی حملے کے نتیجے میں حزب اللہ کے ایک سینئر کمانڈر اور ان کے اہل خانہ کی شہادت کے بعد مذاکراتی عمل روک دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اس وقت واضح کردیا تھا کہ اسرائیلی کارروائی کا جواب دیا جائے گا اور اگر اسرائیل کی جانب سے مزید ردعمل سامنے آیا تو کارروائی کا دائرہ وسیع کیا جاسکتا ہے۔

قالیباف کے مطابق اسی دوران امریکا کی جانب سے بعض اقدامات کیے گئے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان میں آبنائے ہرمز سے متعلق شرط سامنے آنے پر ایران نے اس مؤقف کو مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا تھا جس کے تحت آبنائے ہرمز کھولنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہو۔ قالیباف کے مطابق انہوں نے ثالثوں کو بھی اس حوالے سے ایران کا مؤقف واضح کردیا تھا۔

ایرانی اسپیکر نے دعویٰ کیا کہ بعد میں ٹرمپ کے بیان میں آبنائے ہرمز سے متعلق حصہ تبدیل کردیا گیا اور اسے معاہدے سے مشروط کرنے کی بات کی گئی۔

قالیباف نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو محض سفارتی عمل کے بجائے ایک مسلسل سیاسی جدوجہد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے مؤقف اور مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی مسلسل اہمیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلے ایران کے اختیار میں ہیں اور اس حوالے سے بیرونی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔

ایرانی حکام نے امریکی بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے آبنائے ہرمز پر اپنے حقِ اختیار کو ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے۔