قائداعظم کے معالجین کواعلیٰ سول اعزازات کیوں عطا ہوئے، وجہ سامنے آگئی
قائداعظم کی بیماری کاراز رکھنے والے ڈاکٹروں اور محمد اسد کو نشانِ امتیاز دینے کا ذکر
وفاقی وزیر منصوبہ بندی چوہدری احسن اقبال نے کہا ہے کہ ایوارڈز کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میں نے نشانِ امتیاز کے لیے دو غیر معمولی ڈاکٹروں کو نامزد کیا۔ ان میں ایک فزیشن اور ایک ریڈیولوجسٹ تھے، دونوں کا تعلق بمبئی کی پارسی برادری سے تھا۔ ان دونوں ڈاکٹروں نے قائداعظم محمد علی جناح کی آخری بیماری کے راز کو پوری وفاداری کے ساتھ محفوظ رکھا۔
ایکس پر احسن اقبال کا کہناہے کہ بہت سے مؤرخین اس راز کو بیسویں صدی کے انتہائی اہم اور دور رس نتائج کے حامل رازوں میں شمار کرتے ہیں۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے بعد میں اعتراف کیا کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ قائداعظم محمد علی جناح کتنی شدید بیماری میں مبتلا ہیں تو ممکن ہے وہ تقسیمِ ہند کو مؤخر کر دیتے۔ ایسا ہونے کی صورت میں تاریخ کا دھارا ممکنہ طور پر بدل جاتا اور شاید پاکستان کا قیام بھی خطرے میں پڑ جاتا۔
ایسے انتہائی اہم اور نازک وقت میں مکمل پیشہ ورانہ رازداری برقرار رکھتے ہوئے ان ڈاکٹروں نے خاموش مگر غیر معمولی خدمت انجام دی۔ اپنے پیشہ ورانہ حلف سے ان کی وفاداری نے غیر ارادی طور پر ان حالات میں ایک اہم کردار ادا کیا جنہوں نے پاکستان کے قیام کو ممکن بنانے میں مدد دی۔
تیسرا نشانِ امتیاز محمد اسد کے لیے تھا،جو یورپ میں پیدا ہونے والے ممتاز اسلامی اسکالر تھے اور جنہوں نے یہودیت سے اسلام قبول کیا۔ محمد اسد نے علامہ اقبال کے ساتھ قریبی علمی تعلق قائم کیا، پاکستان کو اپنا وطن بنایا اور نئی قائم ہونے والی ریاست کے لیے غیر معمولی علمی اور سفارتی خدمات انجام دیں۔
محمد اسد پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرنے والے ابتدائی افراد میں شامل تھے اور بعد ازاں اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ قرآنِ مجید کا ان کا معروف انگریزی ترجمہ اور تشریح The Message of the Qur’an عصرِ حاضر کی اسلامی فکر کے لیے ایک دیرپا علمی contribution قرار دیا جاتا ہے۔
یہ ہماری قومی تاریخ کے ایسے قابلِ ذکر مگر کم یاد رکھے جانے والے ابواب ہیں۔ ان شخصیات کی کہانیاں، ان کی دیانت داری، علمی قابلیت اور خدمات نئی نسل کے سامنے دوبارہ لانے، دستاویزی شکل میں محفوظ کرنے اور عام کرنے کی ضرورت ہے۔
ان شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ہم ان لوگوں کی یاد بھی محفوظ کرتے ہیں جن کی پاکستان کے قیام اور ابتدائی برسوں میں خدمات گہری اور غیر معمولی اہمیت کی حامل تھیں، اگرچہ انہوں نے یہ خدمات منظرِ عام سے دور رہ کر انجام دیں۔