حکومت نے روکا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے:حافظ نعیم الرحمان

جماعت اسلامی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں، پٹرولیم لیوی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف چاروں صوبوں میں احتجاجی دھرنے دے گی۔

August 16, 2026 · قومی

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے جماعت اسلامی کے احتجاج میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو تحریک کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمان نے منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں، پٹرولیم لیوی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف چاروں صوبوں میں احتجاجی دھرنے دے گی۔

انہوں نے بتایا کہ لاہور میں احتجاج وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جبکہ دیگر صوبائی دارالحکومتوں میں گورنر ہاؤسز کے سامنے دھرنے دیے جائیں گے۔ لاہور میں مظاہرین شام 4 بجے مختلف مقامات سے مارچ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچیں گے۔

جماعت اسلامی کے امیر نے حکومت پر عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکسوں اور مختلف لیویز کی وصولی سے عام شہری شدید متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مراعات یافتہ طبقے کو مختلف سہولتیں حاصل ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے سرکاری اخراجات میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ حکام کے لیے مہنگی گاڑیوں اور دیگر سہولیات کے بجائے سادگی اختیار کی جانی چاہیے۔

انہوں نے بجلی کے شعبے میں آئی پی پیز کو دی جانے والی کیپسیٹی پیمنٹس پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ عوام کو مہنگی بجلی اور لوڈشیڈنگ دونوں کا سامنا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے تعلیم اور صحت کے شعبوں کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم اور علاج کی سہولتیں ہر شہری کو فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں روزگار کے محدود مواقع کے باعث نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہیں، جبکہ عوام موجودہ حکومتی نظام سے شدید مایوسی کا شکار ہیں۔

جماعت اسلامی کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور حکومت پر مطالبات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔