ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر حماس سے مذاکرات کے بعد اسرائیل پہنچ گئے

یہ ملاقات حماس اور امریکی فریق کے درمیان حالیہ عرصے میں ہونے والی اہم سفارتی کوششوں میں شامل ہے۔

August 17, 2026 · بام دنیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایلچی جیرڈ کشنر حماس کے ساتھ مصر میں ہونے والی اہم ملاقات کے بعد اسرائیل پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق مصر میں ہونے والی بات چیت کے دوران غزہ کے لیے امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات حماس اور امریکی فریق کے درمیان حالیہ عرصے میں ہونے والی اہم سفارتی کوششوں میں شامل ہے۔

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کی جانب سے گزشتہ ماہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے سے متعلق ایک معاہدے پر پیش رفت ہوئی ہے۔

تاہم اسرائیل نے گزشتہ ہفتے ٹرمپ کے 15 نکاتی منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا۔ منصوبے میں اسرائیلی فوج کے انخلا اور غزہ کے لیے نئی فلسطینی شہری انتظامیہ کے قیام سمیت تعمیرِ نو کی تجاویز شامل ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ غزہ سے فوجی انخلا سے پہلے حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جانا ضروری ہے۔

دوسری جانب آٹھ مسلم ممالک نے مشترکہ بیان میں اسرائیل کی جانب سے امن منصوبے کو مسترد کیے جانے پر تشویش اور مخالفت کا اظہار کیا ہے۔

فلسطینی حکام کے مطابق جیرڈ کشنر نے مصر میں حماس کے وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت تنظیم کے رہنما خلیل الحیہ کر رہے تھے۔ ملاقات کے بعد حماس نے ثالثوں اور بورڈ آف پیس سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو امن منصوبے کے اگلے مراحل پر پیش رفت کے لیے تیار کیا جائے۔