لاہور، پسند کی شادی پانچ جانیں لے گئی
واقعے سے قبل ملزم کے خلاف لڑکی کے اہلخانہ کی جانب سے مقدمہ بھی درج کرایا گیا تھا اور وہ مبینہ طور پر ضمانت پر رہا ہوکر آیا تھا۔
لاہور کے علاقے چوہنگ کی برکت کالونی میں خاندانی تنازع پر فائرنگ کے ایک انتہائی افسوسناک واقعے میں داماد نے مبینہ طور پر اپنی اہلیہ، ساس، سسر اور سالے کو فائرنگ کرکے قتل کردیا، جبکہ واردات کے بعد ملزم نے خود کو بھی گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ واقعے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جان سے گئے۔
پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق فائرنگ کا واقعہ صبح سویرے برکت کالونی چوہنگ میں پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 25 سالہ عمران شوکت رائفل لے کر اپنے سسرال پہنچا اور وہاں موجود اہلخانہ پر فائرنگ کردی۔
پولیس کے مطابق عمران شوکت کی تقریباً 6 ماہ قبل سمیعہ بی بی سے شادی ہوئی تھی۔ شادی کے بعد دونوں کے درمیان گھریلو اختلافات پیدا ہوگئے تھے، جس کے باعث سمیعہ بی بی اپنے والدین کے گھر رہ رہی تھی۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم اپنی اہلیہ کو واپس اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔
پولیس کے مطابق عمران شوکت صبح تقریباً پونے 6 بجے اپنے سسرال پہنچا۔ گھر پہنچنے کے بعد اس نے مبینہ طور پر اپنی اہلیہ سمیعہ بی بی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر جاں بحق ہوگئیں۔
اس کے بعد ملزم نے اپنے سسر علی خان کو بھی فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق علی خان کو سینے میں گولی لگی۔ ملزم نے اپنے برادرِ نسبتی ذیشان خان پر بھی فائرنگ کی، جو گولی لگنے سے جاں بحق ہوگئے، جبکہ ساس شمائلہ بی بی بھی فائرنگ کی زد میں آکر دم توڑ گئیں۔
فائرنگ کے بعد ملزم عمران شوکت نے مبینہ طور پر اپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کرلی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو حکام نے تمام جاں بحق افراد کی لاشیں تحویل میں لیں، جنہیں بعد ازاں قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہیں اور جائے وقوعہ سے شواہد بھی اکٹھے کیے گئے ہیں۔ ابتدائی طور پر واقعے کو میاں بیوی کے درمیان جاری گھریلو تنازع سے جوڑا جارہا ہے، تاہم فائرنگ کے اصل محرکات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق واقعے سے قبل ملزم کے خلاف لڑکی کے اہلخانہ کی جانب سے مقدمہ بھی درج کرایا گیا تھا اور وہ مبینہ طور پر ضمانت پر رہا ہوکر آیا تھا۔ تاہم اس حوالے سے مقدمے کی نوعیت اور دیگر تفصیلات پولیس کی تحقیقات سے مزید واضح ہوں گی۔
پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ ملزم رائفل لے کر سسرال کیسے پہنچا، گھر میں داخل ہونے کے بعد فائرنگ کس ترتیب سے ہوئی اور واقعے سے پہلے فریقین کے درمیان کیا تنازع چل رہا تھا۔
ایک ہی خاندان کے چار افراد کے قتل اور مبینہ حملہ آور کی خودکشی کے باعث برکت کالونی میں خوف اور سوگ کی فضا قائم ہے۔ پولیس نے واقعے کی مزید تفتیش شروع کردی ہے تاکہ فائرنگ کے محرکات اور واقعے سے متعلق تمام حقائق سامنے لائے جاسکیں۔