بھارتی تجزیہ کار نے بھی جنگ پر اپنے ملک کی ڈاکومنٹری کو خیالی پلاؤ قرار دے دیا
بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگوں کے پس منظر میں بننے والی بھارتی فلموں اور ڈاکومنٹریز پر خود ایک بھارتی دفاعی تجزیہ کار نے سخت سوالات اٹھا دیے۔
سابق بھارتی فوجی افسر اور دفاعی تجزیہ کار پراون ساہنی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں بھارتی جنگی فلموں کو حقیقت سے دور، یکطرفہ اور خامیوں سے بھرپور قرار دیا۔
پراون ساہنی کے مطابق وہ خود ایسی فلمیں نہیں دیکھتے، تاہم سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ان کے کلپس اور تجزیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں حقائق کو ایک مخصوص انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی فلموں کے ذریعے بھارتی فوج کو پاکستانی فوج سے برتر دکھانے، شدید قوم پرستی کو فروغ دینے اور یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فوج پر سوال اٹھانا ناقابلِ قبول ہے۔
بھارتی دفاعی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ گزشتہ 12 برس کے دوران بڑی تعداد میں بھارتی شہری ایک ایسی خیالی دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں مخصوص بیانیے کو حقیقت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس سے اختلاف کرنے والوں کو مختلف القابات دیے جاتے ہیں۔
I don't watch movies on India's wars with Pakistan. However, I do read a few posts, reviews & video clips on X. For one who understands these wars, all such movies are unreal, hugely one sided with major shortcomings.
I do understand why they are made: to show Indian military is…— Pravin Sawhney (@PravinSawhney) August 18, 2026
پراون ساہنی نے بھارتی عوام سے اپیل کی کہ وہ آنکھیں کھولیں اور بدلتے ہوئے حالات کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 2029 سے پہلے بھارت میں بڑی مثبت تبدیلیاں آنے والی ہیں۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگی واقعات اور فوجی کارروائیوں پر دونوں جانب سے مختلف بیانیے سامنے آتے رہے ہیں۔
تاہم پراون ساہنی کے بیان میں بھارتی جنگی فلموں اور ڈاکومنٹریز کے حوالے سے کیے گئے دعوے ان کی ذاتی رائے اور تجزیے پر مبنی ہیں، جن کی آزاد ذرائع سے الگ سے تصدیق ضروری ہے۔
بھارتی دفاعی تجزیہ کار کی جانب سے اپنے ہی ملک کی جنگی فلموں کے بیانیے پر سوال اٹھائے جانے کے بعد یہ بیان سوشل میڈیا پر بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔