آبنائے ہرمز میں کشیدگی، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 27 سینٹ کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی بیرل قیمت 91.50 ڈالر تک پہنچ گئی
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے حوالے سے سفارتی کوششوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 27 سینٹ کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی بیرل قیمت 91.50 ڈالر تک پہنچ گئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 42 سینٹ بڑھ کر 85.30 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
عالمی توانائی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے امکانات محدود ہونا اور خطے میں فوجی صورتحال کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش بتائی جارہی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکا کے ساتھ مستقل جنگ بندی اور امن معاہدے کے لیے مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی، جبکہ تہران نے اپنی فوجی پوزیشن مزید مضبوط رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے عارضی جنگ بندی میں توسیع کے امکانات مسترد کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز عالمی توانائی منڈی کے لیے خاص اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ یہ اہم بحری راستہ خلیج فارس سے عالمی منڈی تک تیل کی ترسیل کا بڑا ذریعہ ہے، تاہم کشیدگی کے باعث اس راستے سے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
شپ ٹریکنگ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام پر صرف چند کموڈیٹی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز اس راستے پر کسی جہاز کی آمدورفت ریکارڈ نہ ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے ساتھ بحیرہ احمر اور باب المندب میں کشیدگی بھی عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ خطے میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم یا اہم بحری راستے کی طویل بندش سے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اور قیمتیں مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب ایران آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر عمان کے ساتھ بھی بات چیت کر رہا ہے۔ تہران کی جانب سے مذاکرات میں پیش رفت کے اشارے دیے گئے ہیں، تاہم خطے میں جاری سیاسی اور عسکری کشیدگی کے باعث صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔
عالمی منڈی میں سرمایہ کاروں کی توجہ اب امریکا کے خام تیل کے ذخائر کے تازہ اعداد و شمار پر بھی مرکوز ہے۔ مارکیٹ میں یہ توقع کی جارہی ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں کمی ریکارڈ ہوسکتی ہے، جس کا اثر تیل کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران امریکا کشیدگی میں مزید اضافہ، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی رکاوٹ یا خطے میں نئے فوجی محاذ کھلنے کی صورت میں عالمی توانائی مارکیٹ پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔