سپریم کورٹ کا عمران خان کو آج ہی شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم، میڈیکل بورڈ بنانے کی ہدایت

ہسپتال منتقلی کے دوران امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کے علاج اور طبی معائنے کے معاملے کو سیاسی سرگرمیوں سے الگ رکھا جائے۔

August 18, 2026 · اہم خبریں

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آج ہی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ عمران خان کا مکمل طبی معائنہ کرانے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے اور انہیں سخت سکیورٹی میں ہسپتال منتقل کیا جائے۔

عدالت نے واضح کیا کہ ہسپتال منتقلی کے دوران امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کے علاج اور طبی معائنے کے معاملے کو سیاسی سرگرمیوں سے الگ رکھا جائے۔ عدالت نے ہسپتال کے باہر کسی بھی قسم کے جلسے، جلوس یا احتجاج سے گریز کی ہدایت بھی کی ہے۔

بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے عمران خان کا مکمل میڈیکل ریکارڈ عدالت میں پیش نہ کیے جانے پر سوال اٹھایا۔ عدالت کے مطابق اب تک فراہم کیا گیا مواد مکمل ریکارڈ کے بجائے میڈیکل رپورٹ کی سمری پر مشتمل ہے۔

سپریم کورٹ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت سے قبل عمران خان کا تمام طبی ریکارڈ عدالت میں جمع کرایا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جب ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش ہوگا تو اسے خفیہ نہیں رکھا جائے گا۔

سماعت کے دوران عمران خان کی طبی صورتحال اور مختلف طبی معائنے کی ضرورت پر بھی بحث ہوئی۔ عدالت نے میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لیتے ہوئے طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق حکام سے وضاحت طلب کی۔
اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی حالیہ رپورٹ میں عمران خان کی صحت میں بعض بہتری کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جبکہ میڈیکل بورڈ نے بلڈ پریشر اور بے چینی کو قابو میں رکھنے کے لیے روزانہ واک، اخبارات، رسائل، ٹی وی اور مطالعے کی سہولت کے ساتھ اہل خانہ سے زیادہ باقاعدہ ملاقاتوں کی سفارش کی تھی۔ ([The Express Tribune][2])

سماعت کے دوران عمران خان کی بہنوں سے ملاقات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ عدالت نے کہا کہ اہل خانہ سے ملاقات محض کسی کی طرف سے دیا جانے والا احسان نہیں بلکہ بنیادی حق کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ تین برس کے دوران عمران خان کی بہنوں سے 48 ملاقاتیں کرائی جا چکی ہیں۔ سپریم کورٹ نے ان ملاقاتوں کی مکمل تفصیلات طلب کرلیں، جبکہ عمران خان کی اپنے بچوں سے رابطے یا گفتگو کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ عمران خان کا شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں مکمل طبی معائنہ کرایا جائے اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان سمیت ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو نہ کرنے کی یقین دہانی سے متعلق بھی سوالات کیے۔ وکلا کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ ملاقات کے بعد طبی معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی کو بانی کی صحت کے معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ عدالت نے زور دیا کہ عمران خان کے علاج اور طبی صورتحال کو سیاسی تنازع بنانے کے بجائے ان کے طبی تقاضوں پر توجہ دی جائے۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ عمران خان سے ملاقات کرنے والے افراد کی جانب سے عدالتی یقین دہانیوں کی پابندی کی جائے۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی مکمل تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ بتایا جائے بانی پی ٹی آئی کتنے مقدمات میں زیرِ سماعت قیدی ہیں، کتنے مقدمات میں انہیں سزائیں سنائی جا چکی ہیں اور کتنے مقدمات میں سزائیں معطل ہوئی ہیں۔

عدالت نے اڈیالہ جیل حکام سے گزشتہ تین سال کے دوران عمران خان سے ہونے والی ملاقاتوں کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کیا اور آئندہ سماعت پر جیل حکام کو پیش ہونے کی ہدایت کی
سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عمران خان کو آج ہی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جانا ہے، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا جائے گا اور میڈیکل بورڈ ان کی صحت کا جائزہ لے گا۔ کیس کی مزید کارروائی آئندہ سماعت پر ہوگی۔