کئی شادیوں میں ڈولی اٹھائی۔اپنی دلہن پیدل چل کر آئی۔شاہد خاقان عباسی
پہاڑی علاقوں میں ماضی میں زیادہ تر شادیوں میں دلہن کو ڈولی میں کندھے پراٹھا کر لایا جاتا تھا اور یہ فریضہ دلہن کے خاندان کے نوجوان افراد انجام دیتے تھے
سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ اپنی نوجوانی میں انہوں نے آبائی علاقے میں کئی شادیوں میں ڈولی اٹھانے کا فریضہ انجام دیا مگر ان کی اہلیہ دلہن بنیں تو پیدل چل کر آئیں کیونکہ اس دن طوفانی بارش کی وجہ سے کیچڑ زیادہ تھا۔
ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پہاڑی علاقوں میں ماضی میں زیادہ تر شادیوں میں دلہن کو ڈولی میں کندھے پراٹھا کر لایا جاتا تھا اور یہ فریضہ دلہن کے خاندان کے نوجوان افراد انجام دیتے تھے۔چنانچہ میں نے بھی کئی بار ڈولی اٹھائی۔راستہ تنگ ہونے کی وجہ سے اکثر صرف دو لوگ ڈولی اٹھاتے تھے۔اب تو خیر وہ رواج ختم ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے ایک مزیدار واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ایک بار دلہن خاصی وزنی تھی تو ہم ڈولی کے وزن سے پسینے میں شرابور ہو گئے۔چڑھائی بھی زیادہ تھی ۔پھر دوسرے ساتھی مدد کو آئے۔ہم کوئی چھ آٹھ لڑکے تھے، ایک بار تو سوچا کہ دولہا سے کہیں کہ یار تم بھی کچھ ذمہ داری اٹھا لو۔
میں وہ شادی میں نہیں بھول سکتا۔
واضح رہے کہ مری، ازاد کشمیر اور ہزارہ سمیت کئی دور دراز پہاڑی علاقوں میں اب بھی دلہن کو ڈولی میں بٹھا کر کندھے پر اٹھا کر لایا جاتا ہے۔