دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں:عطا تارڑ
دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے بعد ریاست نے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا، جو دہشتگردی کے خلاف ایک متفقہ قومی حکمت عملی تھی
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف طویل جنگ میں بھاری جانی نقصان اٹھایا اور پاکستانی قوم، سیکیورٹی فورسز، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دی گئیں۔
اسلام آباد میں ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے بعد ریاست نے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا، جو دہشتگردی کے خلاف ایک متفقہ قومی حکمت عملی تھی۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں، افواج اور دیگر اداروں نے مل کر اس منصوبے کے تحت کارروائیاں کیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت سوات، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں میں دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے گئے، جس کے نتیجے میں چند برس کے دوران امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی اور ملک میں سرمایہ کاری کے لیے ماحول بھی سازگار ہوا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کی دوبارہ آبادکاری اور مذاکرات سے متعلق بعض پالیسیوں نے انسداد دہشتگردی کی کوششوں کو نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خلاف مستقل کامیابی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو قومی پالیسی پر اعتماد میں لینا اور سیاسی اتفاق رائے برقرار رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگرد اب زیادہ تر نرم اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، جن میں عبادت گاہیں، تعلیمی ادارے، بچوں کی بسیں اور ٹرینیں شامل ہیں۔ ان کے مطابق جعفر ایکسپریس پر حملہ بھی دہشتگردوں کی اسی حکمت عملی کی مثال ہے، تاہم سیکیورٹی اداروں نے کارروائی مکمل کرکے مسافروں کی حفاظت یقینی بنائی۔
وفاقی وزیر نے دہشتگردی کے بیرونی عوامل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس ملک میں بیرونی مداخلت اور دہشتگردی کی معاونت سے متعلق شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کو بھارتی مداخلت سے متعلق پاکستان کا اہم مؤقف قرار دیا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ ڈیجیٹل محاذ پر بھی جاری ہے۔ بیرونی عناصر تخریب کاری کے ساتھ ساتھ منفی پروپیگنڈا اور ذہن سازی کے ذریعے بھی معاشرے کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کے مطابق سائبر جرائم، آن لائن ہراسانی، بچوں کے استحصال اور دہشتگردی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانونی اور ادارہ جاتی نظام ضروری ہے۔ حکومت ڈیجیٹل سیکیورٹی اور انسداد دہشتگردی کے شعبوں میں ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ریاست مخالف بیانیے اور پرتشدد انتہاپسندی کے تدارک کے لیے وفاق اور صوبوں کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ بیانیے کی جنگ اور عوامی آگاہی کو بھی اہمیت حاصل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ کے تحت انسدادِ پرتشدد انتہاپسندی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے میڈیا مواد کے تجزیے کی صلاحیت بھی بڑھائی جا رہی ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت پاکستان کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے بھی استفادہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی ثقافت، سفارتی کامیابیوں اور مثبت سرگرمیوں کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردی کے خلاف ریاستی اداروں کی مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب، رنگ یا نسل نہیں ہوتی، اس کا مقصد تشدد کے ذریعے اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے پوری قوم کا متحد رہنا ضروری ہے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔