پوائنٹ آف سیل لگانے سے چھٹی- چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس ایپ لانچ

گھر بیٹھے تفصیلات جمع کرا سکیں گے- وزرائے خزانہ کی تاجر رہنمائوں کے ساتھ پریس کانفرنس

August 19, 2026 · امت خاص

حکومت نے چھوٹے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے ریٹیلر اسکیم ایپ لانچ کردی، جس کے ذریعے دکاندار گھر بیٹھے ٹیکس رجسٹریشن اور ریٹرن فائل کرسکیں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے تاجر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اسکیم اور ایپ کی تفصیلات بیان کیں۔بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ ریٹیلر اسکیم تاجروں سے مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے اور اس کا مقصد ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایپ ان دکانداروں کے لیے بھی دستیاب ہے جو اس وقت ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ۔ اسے گوگل پلے اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔

اسکیم میں رجسٹریشن کے بعد دکانداروں کو پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشین لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایپ اردو زبان میں دستیاب ہے ۔ دیگر زبانوں میں بھی اس کا اجرا ستمبر میں متوقع ہے۔بلال اظہر کیانی نے کہا کہ اسکیم کے تحت ہر دکاندار کو کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ حکومت آئندہ مختلف اضلاع اور بازاروں کو بھی اسکیم میں شامل کرے گی اور مزید مشاورت کے لیے چیمبرز آف کامرس سے رابطہ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ اسکیم کو تاجروں کی مشاورت سے اس لیے تیار کیا گیا تاکہ چھوٹے دکانداروں کے لیے انکم ٹیکس کا نظام آسان بنایا جاسکےانہوں نے کہا کہ ریٹیلر اسکیم ٹیکس نظام میں شامل ہونے کا ایک اضافی آپشن ہوگی اور کسی دکاندار کو یہ شکایت نہیں ہوگی کہ اس سے دوسرے دکاندار کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس وصول کیا گیا۔

چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ تاجروں کو ٹیکس فائل کرنے میں بنیادی طور پر دو مشکلات کا سامنا تھا؛ انہیں فارم پُر کرنے میں دشواری ہوتی تھی اور انہیں خدشہ رہتا تھا کہ فارم جمع کرانے کے بعد ایف بی آر کی جانب سے کیا کارروائی ہوگیا۔نہوں نے بتایا کہ نئی ایپ کے ذریعے تقریباً آٹھ سے دس کلکس میں ٹیکس فائل کیا جاسکے گا اور دکانداروں کو ایف بی آر کے دفاتر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

راشد لنگڑیال کے مطابق جس دکان پر ٹیکس فائل کرنے کی پلیٹ نصب ہوگی، وہاں ایف بی آر کے اہلکار نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ڈسکوز سے کمرشل ڈیٹا بھی حاصل کیا گیا ہے، تاہم اسکیم سے حاصل ہونے والے ٹیکس کی حتمی مقدار بتانا ابھی قبل از وقت ہوگا۔چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ اندازے کے مطابق اربوں روپے کا اضافی ٹیکس نیٹ میں آسکتا ہے، تاہم تاجروں کو اسکیم میں شامل ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

صدر پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے اسکیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تاجر 2001 سے آسان ٹیکس اسکیم کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں۔ ان کے بقول بڑی تعداد میں دکاندار زیادہ تعلیم یافتہ نہیں، اس لیے آسان طریقہ کار ان کے لیے ضروری ہے۔

تاجر رہنما کاشف چوہدری نے کہا کہ ملک میں معاشی محاذ پر پیش رفت کے لیے ہر کمانے والے شخص کو اپنی استطاعت کے مطابق ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے تاجروں سے ٹیکس ادا کرکے ملکی معیشت میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ٹیکس نظام کو کاروباری طبقے کے لیے مزید آسان بنایا جائے اور غیر ضروری رکاوٹیں ختم کی جائیں۔