عمران خان رہائی کی صورت میں فوج سے محاذ آرائی نہیں کریں گے، زلفی بخاری

27 ستمبر کا مارچ ہوگا، روپوش قیادت بھی شرکت کر سکتی ہے، برطانوی خبر ایجنسی کو انٹرویو

August 21, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی اور ترجمان زلفی بخاری نے برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر عمران خان رہا ہوتے ہیں تو وہ فوج یا آرمی چیف عاصم منیر کے ساتھ محاذ آرائی کا راستہ اختیار نہیں کریں گے۔

یہ بیان سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے، جسے پارٹی کے بیانیے میں ایک نمایاں اور مفاہمانہ تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

زلفی بخاری نے واضح کیا کہ اگر عمران خان کل رہا ہو جاتے ہیں تو وہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔ ان کا کہنا تھا، “اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اسٹیبلشمنٹ یا عسکری قیادت سے ٹکرا جائیں۔ ملک کی بہتری کے لیے انسان کو اپنے ذاتی دکھ اور تکلیف پر قابو پانا پڑتا ہے۔”

زلفی بخاری نے آرمی چیف کو ملک کی سب سے طاقتور شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو قوم کے لیے ایک شفیق کردار ادا کرتے ہوئے مفاہمت کا ہاتھ بڑھا سکتے ہیں، جس سے چوبیس گھنٹوں کے اندر تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت پی ٹی آئی اور فوج کے درمیان کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔
مفاہمت کے اشاروں کے باوجود، زلفی بخاری نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی 27 ستمبر کو ملک بھر میں احتجاجی مارچ کرے گی، چاہے عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جائے یا نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مقدمات کے باعث روپوش ہونے والے پارٹی کے سینئر رہنما اس تحریک اور مارچ کو متحرک کرنے کے لیے سامنے آئیں گے اور تنظیمی عمل میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔